.

الرقہ پر امریکی اتحاد کے فضائی حملوں میں ایک ماہ میں 224 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر الرقہ میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے گذشتہ ایک ماہ کے دوران فضائی حملوں میں دو سو چوبیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کے روز یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ میں امریکی اتحادیوں کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کے جنگجو قریباً ایک ماہ قبل داخل ہوئے تھے اور اس دوران میں امریکی اور دوسرے ممالک کے لڑاکا طیاروں کی شہری علاقوں پر بمباری میں یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔مرنے والوں میں اڑتیس بچے اور اٹھائیس خواتین بھی شامل ہیں۔

لیکن اتحاد نے اس رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ناقدین تفصیلی جائزے کے بغیر ہلاکتوں کے اعداد وشمار جاری کررہے ہیں۔ اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد وشمار اکٹھے کیے جارہے ہیں اور یہ جمعہ کو جاری کیے جائیں گے۔

شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی یہ ہلاکتوں اتحادی طیاروں کے صرف فضائی حملوں میں ہوئی ہیں اور دوسرے واقعات ، فوجی کارروائیوں ،بارودی سرنگوں کا دھماکوں یا شہر سے راہ فرار کی کوشش کے دوران میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے۔

الرقہ میں کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز کی چڑھائی کے بعد ہزاروں افراد محصور ہوکررہ گئے ہیں اور داعش کے جنگجو انھیں مبینہ طور پر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔شہر سے راہ فرار میں کامیاب ہونے والے مکینوں نے بتایا ہے کہ داعش کے ماہر نشانچی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

الرقہ سے تعلق رکھنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ توپ خانے کی گولہ باری اور داعش کے نصب کیے گئے دھماکا خیز مواد کے دھماکوں میں بیسیوں شہری جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ 6 جون کے بعد سے الرقہ میں فضائی حملوں اور جھڑپوں میں داعش کے تین گیارہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ایس ڈی ایف کے ایک سو چھے جنگجو مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ داعش نے 2014ء کے اوائل میں الرقہ پر قبضہ کیا تھا اور یہ شہر تب سے اس گروپ کا شام میں دارالحکومت چلا آرہا تھا۔امریکا کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں نے کئی ہفتے تک الرقہ کا محاصرہ کیے رکھا تھا اور وہ جون کے اوائل میں اس شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ان کا ابھی تک شہر پر مکمل قبضہ نہیں ہوسکا ہے۔