.

لبنان: حزب اللہ شامی قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث؟

زیرحراست شامی پناہ گزینوں کی مسخ شدہ لاشیں سوالیہ نشان بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں فوج کے زیرانتظام جیلوں میں مبینہ طورپر وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شامی پناہ گزینوں نے لبنانی فوج اور ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مکروہ کردار کو بے نقاب کردیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لبنان کی جیلوں میں قید شامی پناہ گزینوں کو اذیتں دے کر ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ مقتولین کی مسخ شدہ لاشیں انتہائی سخت سیکیورٹی میں عجلت میں دفن کرکے معاملے کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ لبنانی فوج یا حزب اللہ ملیشیا کو بدنامی سے بچایا جاسکے۔

العربیہ کے مطابق لبنان اور شام کی سرحد پر واقع عرسال قصبے میں شامی پناہ گزین کیمپ میں ایک ہفتے لبنانی فوج کی طرف سے کی گئی ایک کارروائی کے بعد فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران متعدد شامی ہلاک ہوگئے تھے۔

فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے چار شامی بیماری اور موسم کی شدت کے باعث دم توڑ گئے جب کہ دیگر زیرحراست تمام قیدیوں کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے لبنانی فوج کی طرف سے جاری کردے دعوے کو بے بنیاد قرار دے کرمسترد کردیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا دعویٰ ہے کہ لبنانی فوج کے زیرانتظام ایک جیل میں قید کیے گئے کم سے کم 10 شامی پناہ گزین وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کے جسموں پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے مگر فوج کی طرف سےان کی تصاویر اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سخت ترین سیکیورٹی میں انہیں دفن کرایا گیا۔

اب تک آٹھ مقتول شامی پناہ گزینوں کی میتیں ان کے ورثاء کےحوالے کی گئی ہیں۔ وکلاء نے مقتولین کے ورثاء سے کہا ہے کہ وہ میتیں وصول کرنے سے انکار کردیں تاکہ میتوں کے بارے میں چھان بین کی جاسکے کہ آیا انہیں تشدد سے ہلاک کیا گیا ہے یا نہیں۔

دوران حراست ماورائے عدالت قتل کیے گئے شامی پناہ گزینوں کی شناخت مصطفیٰ عبدالکریم عبسہ، خالد حسین ملیصم انس حسین الحسیکی،خلدون حلاوہ، صفوان العیسیٰ اس کے دو بھائی مروان اور المقعد رضوان کےناموں سے کی گئی ہے جب کہ ایک مقتول کی شناخت نہیں کی جاسکی۔ ان تمام مقتولین کے جسموں پر تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق لبنان میں حزب اللہ ملیشیا، انٹیلی جنس اداروں اور فوج کے خفیہ عقوبت خانوں میں پانچ ہزار سے زاید شامی شہری پابند سلاسل ہیں۔

شامی فوج سے فرار ہونے کے بعد لبنان آنے والے سیکڑوں شہریوں کو عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرفتار کرنے کے بعد شامی فوج کے حوالے کیا گیا جن میں سے بیشتر کو وحشیانہ تشدد کرکے قتل کردیا گیا۔