موصل: داعشی دہشت گرد اڑھائی سو گز کی جگہ پر محصور

دہشت گردوں کی جانب سے خود کش بمباروں کا اندھا دھند استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ پرانے موصل شہر میں داعشی دہشت گردوں کو اڑھائی سو مربع میٹر کی جگہ پر محصور کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب دہشت گردوں نے فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے خود کش بمباروں کے ذریعے اندھا دھند حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو عراقی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فورسز نے شمالی عراق کے شہر موصل میں المیدان اور الشعار کالونیوں کی طرف اہم پیش رفت کی ہے۔ داعشی دہشت گردوں کو دریائے فرات کے کنارے دو سو سے اڑھائی سو مربع میٹر کی جگہ پر محصور کردیا گیا ہے۔

عراقی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ داعشی دہشت گرد فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہر کی تنگ گلیوں میں خود کش حملے کررہے ہیں جس کے نیتجے میں فورسز کو پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم عراقی فوج کا کہنا ہے کہ داعشی دہشت گردوں کے پاس مرنے یا ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہا ہے۔

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ گذشتہ آٹھ ماہ سے موصل میں داعش کے خلاف جاری لڑائی رواں ہفتے کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی۔

عراقی فوج کی انسداد دہشت گردی یونٹ کے عہدیدار میجر جنر سامی العریضی نے کہا ہے کہ داعشی دہشت گرد مفرور ہونے والے شہریوں کے ساتھ فرار کی کوشش کے ساتھ ساتھ فورسز پر خود کش حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش نے شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔

ادھر اتحادی فوج کے ایک عہدیدار نے بھی بتایا کہ داعشی دہشت گردوں کو موصل میں 250 مربع میٹر کی جگہ پر محصور کردیا ہے۔ موصل کے دیگر تمام مقامات پر اب عراقی فوج کا کنٹرول ہے۔

اتحادی فوج میں شامل نیوزی لینڈ کے بریگیڈیئر جنرل ہیومکاسیلان نے بتایا کہ داعش کے خلاف موصل میں گھمسان کی لڑائی ہوئی اور ہمیں ایسی ہی جنگ کی توقع تھی کیونکہ ہمیں ایک ایسے منتشر اور پست حوصلہ دشمن کا سامنا تھا جو صرف طاقت کی زبان جانتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں