پاسداران انقلاب کے سبب "بسیج" کمانڈر کی صدر روحانی پر نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "بسیج" فورس کے کمانڈر غلام حسین غیب پرور نے صدر حسن روحانی کو دھمکی دی ہے کہ پاسداران انقلاب کو کمزور کرنا ناقابلِ معافی قصور ہے۔ غیب پرور کا یہ ردّعمل روحانی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اس عسکری ادارے پر ملکی معیشت پر قبضے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ "ریاست کے اندر ریاست" ہے۔

بسیج فورس کے کمانڈر کے مطابق صدر روحانی "دانستہ" طور پر پاسداران انقلاب کو کمزور کر رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق غیب پرور کا کہنا ہے کہ " اس بات کا یقین نہیں کیا جا سکتا کہ پاسداران انقلاب اور بسیج فورس کو جانتے بوجھتے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔ غیب پرور نے مزید کہا کہ "ایسے وقت میں جب کہ امریکا جیسے دشمن پاسداران انقلاب پر نکتہ چینی اور اس کی اہانت کر رہے ہیں ، اندرون خانہ بعض شخصیات بھی اس کو نشانہ بنا رہی ہیں"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے صدر روحانی کو اُن کے اس بیان کے سبب کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جس میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ پاسداران انقلاب "ایک ایسی ریاست ہے جو ریاست کے اندر ہتھیار رکھتی ہے"۔ جعفری نے اپنے ردّ عمل میں باور کرایا تھا کہ جس ریاست کے پاس بھی ہتھیار نہیں ہوں گے اس کو دشمن کی طرف سے ذلیل اور بے وقعت بنایا جائے گا جس کے بعد وہ خود سے ہتھیار ڈال دے گی۔

صدر حسن روحانی اور پاسداران انقلاب کے درمیان اختلاف کا آغاز شام کے شہر دیر الزور پر ایرانی میزائل داغے جانے کے بعد ہوا۔ حسن روحانی اور وزیر انٹیلی جنس محمود علوی نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ صدر نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے ان میزائلوں کو داغنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے مذکورہ معاملے میں روحانی کے کسی بھی کردار سے انکار کیا۔

ایرانی امور کے تجزیہ کاروں کے نزدیک ایرانی صدر کا پاسداران انقلاب کے خلاف بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ روحانی اور مرشد اعلی علی خامنہ ای کے بیچ اختلافات کی خلیج واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ روحانی ان تنقیدی بیانات کے ذریعے ایرانی معاشرے کے سب سے بڑے حصے کے قریب ہونے کے واسطے کوشش کر رہے ہیں جس نے ان کو کرسی صدارت پر پہنچایا۔ اس کے مقابل پاسداران انقلاب کو مرشد علی خامنہ ای کے ہاتھوں کی طاقت ور ترین لاٹھی شمار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ خود روحانی سمیت اندرون ملک کسی بھی مخالف پر کاری وار کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں