.

یمن کے مرکزی بنک نے عدن سے لین دین کا باقاعدہ آغاز کردیا

امریکا نے یمنی مرکزی بنک پر عاید پابندی اٹھا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی بنک نے 10 ماہ کے تعطل کے بعد عبوری دارالحکومت عدن سے اپنی آپریشنل سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے مرکزی بنک کا ہیڈ کواٹر دس ماہ قبل صنعاء سے عدن منتقل کیا گیا تھا۔

یمنی وزیراعظم احمد عبید بن دغر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مرکزی بنک کی جانب سے لین دین کے تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے کے بعد بنک نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے یمنی باغیوں کی وجہ سے مرکزی بنک کے منجمد کھاتے بحال کردیے ہیں اور اب مرکزی بنک کی بنکنک کا نظام یمنی حکومت کے ہاتھ میں آگیا ہے۔

یمنی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد مرکزی بنک کے بیرون ملک موجود ذخائر ہارڈ کرنسی کی شکل میں موجود ہیں جن کی مالیت 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ذخائر امریکی فیڈرل بنک کے پاس رکھے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت نے مرکزی بنک پر باغیوں کےقبضے کے بعد یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کی درخواست پر بنک اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے۔ آج سے دس ماہ قبل یمنی حکومت نے مرکزی بنک کا ہیڈ کواٹر صنعاء سے عبوری دارالحکومت عدن منتقل کرنا شروع کیا تھا۔ مرکزی بنک کی عدن منتقلی کے بعد بنکوں کے ذریعے لین دین کے تمام امور اب یمنی حکومت کے ہاتھ میں آگئے ہیں۔