.

فلسطین کا تاریخی شہر الخلیل عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار

’یونیسکو‘ کے فیصلے پر اسرائیل سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے فلسطین میں دریائے اردن کے کنارے کے جنوب میں واقع تاریخی شہر ’الخلیل‘ کو اسلامی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ شہر جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے مشہور ہے اور اسے مذہبی پہلو سے بھی غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الخلیل کو ’شہر نبی ابراہیم‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’یونیسکو‘ کی جانب سے الخلیل شہر کو عالمی ثقافتی ورثے کا محفوظ حصہ قرار دینے پر ادارے میں اسرائیل اور فلسطین کےدرمیان ایک نئی محاذ آرائی بھی سامنے آنے کا اندیشہ ہے کیونکہ اسرائیل الخلیل [عبرون] شہر کو بین الاقوامی ثقافتی ورثے اور فلسطینی تاریخ کا حصہ قرار دینے کا مخالف ہے۔

الخلیل شہر کی تاریخی، تہذیبی وثقافتی حیثیت کے تعین کے لیے ’یونیسکو‘ میں خفیہ رائے شماری کرائی گئی۔ رائے شماری میں 12 ارکان نے الخلیل کو فلسطین کے تاریخی وثقافتی مقامات کا حصہ قرار دینے کی حمایت کی۔ تین ملکوں نے مخالفت جب کہ چھ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

الخلیل شہر کے بارے میں تاریخی روایات سے پتا چلتا ہے کہ یہاں پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے قیام فرمایا اور ان کی آخری آرام گاہ بھی یہیں پر موجود ہے جہاں مسجد ابراہیمی [حرم ابراہیمی] بھی قائم ہے۔ پرانے الخلیل شہر میں قریبا دو لاکھ فلسطینی اور چند سو یہودی آباد ہیں۔ اس شہر کی تاریخ 6 ہزار سال پر محیط ہے اور یہ ہزاروں سال سے مسلسل آباد رہنے والا شہر کہلاتا ہے۔

اسرائیل نے حسب معمول یونیسکو کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے یک طرفہ اور جانب دارانہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی خاتون وزیر سیاحت رلی معایعہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ یونیسکو عالمی تاریخی ورثے کی فہرست میں الخلیل شہر اور حرم ابراہیمی شریف کی شمولیت فلسطین کی تاریخی فتح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل یونیسکو پرانے بیت المقدس اور دیوار براق پر اسرائیلی ریاست کا ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ان مقدس مقامات کو بھی عالمی تاریخی ورثے کا حصہ اور فلسطین کا جزو تسلیم کرچکی ہے۔

مسز معایعہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو میں الخلیل دوسرے فلسطینی مقامات کو عالمی تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کرنا فلسطینی قوم کےموقف کی حمایت ہے۔ الخلیل بیت المقدس، بیت لحم کے المہد چرچ اور جنوبی القدس کی انگور اور زیتون کی سرزمین بتیر فلسطین کا چوتھا مقام ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔