.

یو این نائب ایلچی شام بھر میں جنگ بندی سمجھوتے کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی نائب ایلچی رمزی عزالدین رمزی نے جنگ زدہ ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں لڑائی روکنے کے لیے ڈیل کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بحران کے حل کے لیے سیاسی عمل کو شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے ہفتے کے روز دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ درست سَمت کی جانب ایک قدم ہے‘‘۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شام کے دوسرے علاقوں میں بھی جنگ بندی میں مدد ملے گی۔

رمزی عزالدین نے شامی حکومت کے حکام کے ساتھ سوموار سے جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام شروع ہونے والے امن مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس جنگ بندی سے سیاسی عمل شروع کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بتایا کہ جنیوا میں مذاکرات کے اس نئے دور میں آئینی اور قانونی امور سے متعلق فنی بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکا ،روس اور اردن کے درمیان شام کے جنوب مغربی علاقے میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔اس پر اتوار سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔اس جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی20 سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں شام میں جنگ بندی کے اس طرح کے سمجھوتے دیرپا ثابت نہیں ہوئے تھے اور وہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد ٹوٹ جاتے رہے ہیں۔اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں متحارب فریق شامی حکومت اور باغی گروپ اس پر عمل درآمد کریں گے یا نہیں۔