.

ایرانی نظام کے سقوط کی تیاری کر لی جانی چاہیے : امریکی سینئر فیلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ایران میں سیاسی نظام کے سقوط کے بعد کے مرحلے کی تیاری کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ یہ مضمون خارجہ تعلقات کی کونسل کے زیر انتظام تحقیقی مرکز کے ایک سینئر فیلو Ray Takeyh نے تحریر کیا ہے۔

مضمون نگار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کانگریس کے آخری اجلاس میں بول چکے ہیں کہ "امریکا کو ایران کے اندر اُن عناصر کو سپورٹ کرنا چاہیے جو پرُ امن طور پر اقتدار کی تبدیلی لا سکتے ہیں"۔

اگرچہ ٹیلرسن نے ایران کے اندر کام کرنے والے ان عناصر اور ان کے عقیدے یا نسلی تعلق کا ذکر نہیں کیا تھا تاہم اس نے ایرانی نظام کے غیض و غضب کو بھڑکا دیا جس کی طرف سے امریکی وزیر کے بیان پر شدید احتجاج کیا گیا۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ "ایسا نظر آتا ہے کہ ایرانی میڈیا اور حکومت اس بیان سے حیران ہو گئی جب کہ امریکا نے تو کئی برسوں سے اُن قوتوں کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا رکھا ہے جو جمہوری تبدیلیوں کے لیے سرگرم ہیں۔ امریکا نے تو سابق سوویت یونین کے زمانے میں کمیونسٹ حکومت کے تمام برسوں میں آہنی دیوار کے پیچھے موجود قیدیوں کی رہائی کے لیے ان کو بھی سپورٹ کیا تھا"۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "آج جب کہ ایران ایک عمر رسیدہ رہ نما علی خامنہ ای کے زیر انتظام ہے تو امریکا کو چاہیے کہ اقتدار کی منتقلی کے لیے تیاری کرے ، اس کے نتیجے میں موجودہ نظام کا سقوط بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے"۔

یاد رہے کہ 17 جولائی 1939 کو پیدا ہونے والے علی الحسینی خامنہ ای مرشد اعلی یا نظام کے ولیِ فقیہ ہیں۔ خامنہ ای کو آئینی اختیارات حاصل ہیں جو انہیں نظام کا مطلق سربراہ اور مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بناتے ہیں۔

مضمون نگار Ray Takeyh نے ایران کی موجودہ صورت حال کا موازنہ خطے میں ناکامی سے دوچار ممالک کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ نے مطلق العنان حکم راں نظام اور آزادی کے لیے کوشاں عوام کے بیچ تناؤ اور مزاحمت کے کئی واقعات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس دوران کتنے ہی احتجاجوں کو آہنی ہاتھوں اور آگ کے ساتھ کچلا گیا جن میں 2009 میں سبز تحریک کے نام سے مشہور واقعات شامل ہیں.. اور ان تمام تر واقعات نے ایرانی نظام کی قانونی حیثیت ختم کر دی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مضمون کے مطابق "ایرانی نظام سابق سوویت یونین کی طرح اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ نوجوان مساجد کا رخ نہیں کر رہے ہیں اور کوئی بھی اپنی بیٹی کا رشتہ کسی مذہبی شخصیت کے ساتھ کرنے کو تیار نہیں۔ اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ البتہ ایرانی نظام کے پاس صرف ایک امتیازی کامیابی ہے اور وہ ہے عالمی برادری کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ"۔

مضمون نگار کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں بعض سیاسی شخصیات ایسی ہیں جن پر تہران مراعات کے حصول کے واسطے انحصار کر رہا ہے۔ یہ لوگ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جھوٹی مذمت کرتے ہیں تاہم تہران پر پابندیاں عائد کیے جانے سے روکتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مضمون کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ "ٹیلرسن ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس دُہرے پن کو چیلنج کرتے ہیں۔ واشنگٹن پر لازم ہے کہ وہ اب ایران میں نظام کے سقوط کی تیاری کرے۔ اس لیے کہ جب تبدیلی کا آغاز ہوگا تو اُس وقت امریکا کے لیے پیش رفت کے کنٹرول میں کوئی بھی کردار ادا کرنے کے حوالے سے دیر ہو چکی ہو گی"۔