.

قطر کا جواب زود اعتقادی اور کمزور حجت کے سبب حیران کن ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ چار ممالک کے مطالبات پر قطر کا جواب "بڑی حد تک غیر ذمّے دارانہ" ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جواب اپنی "زود اعتقادی اور حجت کی کمزوری کے حوالے سے حیران کن" ہے۔

قرقاش نے اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا کہ قطر کے جواب نے "کویت کی وساطت کے آغاز سے قبل ہی اس کو سبوتاژ کر ڈالا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دوحہ کی جانب سے عقلیت پسندی کے بغیر کوئی سفارتی کوشش کامیاب نہیں ہو گی"۔

اماراتی وزیر نے باور کرایا کہ "خودمختاری اور انکار کے پیچھے چُھپنے سے قطر کا بحران طویل ہو جائے گا"۔

قرقاش نے اپنی ٹوئیٹس میں واضح کیا کہ "قطر کے جواب سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اُس نے حقیقی مواقف کے ساتھ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس دوران اپنی خفّت مٹانے کے واسطے مطالبات کے دستاویز کو بھی اِفشا کیا گیا"۔

انہوں نے کہا کہ "قطر کا ردّعمل ناعاقبت اندیشی پر مبنی معروف پالیسیوں کے حوالے سے ذمے داری قبول کرنے سے خالی رہا"...." قطر کے جواب میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ ذود اعتقادی اور اپنی کمزور حجت کے حوالے سے حیران کن ہے"۔

قرقاش نے باور کرایا ہے کہ "قطر کے جواب میں کوشش کی گئی ہے کہ انارکی ، شدت پسندی اور دہشت گردی کی سپورٹ کی دو دہائیوں کو قلم کی سیاہی سے مٹا دیا جائے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سازشوں اور درد ناک حقائق کو بھول جائیں اور محض کھوکھلے اور بناوٹی الفاظ کا اعتبار کر لیں"۔