.

یہ ہے اسرائیلی جیلوں کی حالتِ زار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی دفاعِ عام کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں کڑے حالات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیلی جیل حکام کے زیر انتظام 24 قید خانوں اور عدالتوں میں واقع 10 حراستی مراکز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو رکھنے والی جگہائیں گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں ہر قیدی کے لیے صرف 3 میٹر کا رقبہ میسر ہے جب کہ مغربی ممالک کی جیلوں میں ایک قیدی کے لیے 8.8 میٹر کی جگہ ہوتی ہے۔ اسی طرح قیدیوں اور زیر حراست افراد کو بستر تک محدود رکھنے کے لیے بھی غیر معیاری طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

جیلوں کے کمروں میں موسم گرما میں سخت گرمی اور رطوبت جب کہ موسم سرما میں سخت سردی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قیدیوں کو بنیادی ضروریات کے سامان کی فراہمی میں بھی قلت پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ قیدیوں کو مناسب علاج کے حوالے سے بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔

عدالتوں میں حراستی مراکز کے حوالے سے رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ ان مقامات پر انسانوں کو بھر دیا گیا ہے اور وہاں ہوا کے گزر کا بھی انتہائی ناقص انتظام ہے۔