.

امریکا، لند ن اور کویت کی قطر بحران کی طوالت پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا، کویت اور لندن نے قطر کے ساتھ خلیجی ممالک کے تنازع کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

کویتی خبر رساں ایجنسی ’’کونا‘‘ کی جانب سے جاری ہونے والا بیان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور برطانیہ کے مشیر قومی سلامتی مارک سڈول کے دورہ کویت کے موقع پر سامنے آیا۔ کویت خلیج میں مغربی دنیا کے اہم اتحادی ملکوں کے درمیان تنازع میں مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مغربی دنیا کے اہم ملکوں کی جانب سے تنازع کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے پر زور دینے کی بات شاید اس لئے ایک بار پھر سامنے آئی ہے کیونکہ قطر کے مخالف خلیجی ملک اس سے پہلے یہ موقف پیش کرتے چلے آئے ہیں کہ جب تک دوحا ان کی فراہم کردہ لسٹ کے مطابق مطالبات نہیں مانتا اس وقت تک قطر سے مطالبات نہیں کئے جا سکتے۔

سعودی عرب، بحرین، یو اے ای اور مصر نے گزشتہ مہینے قطر پر متعدد پابندیاں عائد کیں تھیں جو ان ملکوں کے بقول دہشت گردوں کو حمایت فراہم کرتا ہے۔ دوحا اس الزام کی سختی سے تردید کرتا چلا آیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے اس قبل اعلان کیا تھا کہ ان کے وزیر خارجہ ٹیلرسن کویت، قطر اور سعودی عرب کے رہنماوں سے مذاکرات کرے گا۔ ریاض اور اس کے اتحادی ملک قطر پر ایران نواز انتہا پسند گروپوں کو مالی تعاون فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے، تاہم دوحا اس الزام کی سختی سے تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔