.

حوثیوں کا دور: اساتذہ غیر حاضر طلبہ کی جانب سے امتحانات میں شریک !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیاؤں نے تعلیمی حلقوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتے ہوئے ایک خصوصی امتحانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اُن طلبہ کی جانب سے سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان دے گی جن کو باغی ملیشیاؤں نے آئینی حکومت کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے جھونک دیا ہے۔

صعدہ صوبے کے میڈیا سینٹر نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیاؤں نے بعض اساتذہ کو ذمے داری سونپی ہے کہ وہ محاذ پر لڑنے والے طلبہ کی امتحانی کاپیوں کو بھرنے کے لیے امتحانی مراکز میں موجود اُس کی خصوصی امتحانی کمیٹی کے ارکان کو تیار جوابات فراہم کریں۔

مذکورہ ذرائع نے اس اقدام کو حیران کن اور دنیا بھر میں تعلیمی قوانین کے خلاف قرار دیا۔

رواں ہفتے کے آغاز پر باغی ملیشیاؤں کے زیر قبضہ علاقوں میں سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ مرحلے کے امتحانات کا آغاز ہونے پر غیر مسبوق نوعیت کی نقل کے واقعات کا اندراج ہوا۔ مبصرین نے اس عمل کو حوثیوں کی جانب سے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کے واسطے ایک مںظّم کارروائی قرار دیا۔

حوثی ملیشیاؤں نے گزشتہ برس کے امتحانات میں وسیع پیمانے پر اصولوں کی خلاف ورزیاں کی تھیں یہاں تک کہ محاذ پر باغیوں کی جانب سے لڑتے ہوئے مارے جانے والے بعض افراد کو امتحانات سے قبل ہی اعلی نمبروں کے ساتھ کامیاب قرار دیا گیا۔

انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ حوثی ملیشیاؤں نے ہزاروں بچوں کو بھرتی کر کے اپنے معرکوں میں جھونک ڈالا۔