.

خلیجی ممالک کے ساتھ قطر کا معاہدہ.. العربیہ نے دستاویزات نشر کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل نے پیر کے روز اُس خفیہ معاہدے کے دستاویزات کو نشر کر دیا جو 2013 - 2014 کے درمیان خلیج تعاون کونسل اور امیرِ قطر شیخ تمیم کے درمیان طے پایا تھا۔

دستاویزات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی نے خلیجی ممالک کو مطلوب تمام شِقوں پر دستخط کیے اور اس اقدام کا مقصد اخوت کے نئے تعلقات کا باب کھولنا تھا۔

دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امیرِ قطر نے تحریری طور پر خلیجی ممالک کی قیادت کے سامنے معاہدے کی شقوں پر عمل درامد کا عہد کیا۔

شیخ تمیم نے اُس شِق پر بھی دستخط کیے تھے جس کے مطابق قطر کی عدم پاسداری کی صورت میں خلیجی ممالک اُس کے خلاف اقدامات کرنے میں آزاد ہوں گے۔

دستاویزات کی اہم ترین شِقوں مِں الاخوان تنظیم کی سپورٹ روکنا ، تنظیم کے غیر قطری ارکان کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ، خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ارکان کو پناہ نہ دینا اور یمن میں ایسی کسی تنظیم یا گروپ کو سپورٹ کی عدم فراہمی شامل ہے جس سے اندرونی تعلقات یا اطراف کے ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوں۔

شقوں میں یہ امور بھی شامل تھے کہ خلیجی ممالک کے عام خارجہ سیاست کے رجحان کی پاسداری کی جائے اور اُن اداروں کی بندش عمل میں لائی جائے جو خلیجی ممالک کے شہریوں کو اُن کے اپنے ممالک میں تخریب کاری کے واسطے تربیت دیتے ہیں۔

دستاویز میں بحرین کے 12 عسکری اہل کاروں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا گیا جن کو قطر نے اپنی شہریت دی۔ ان کے نام یہ ہیں :

فيصل محمد الجبر النعيمی – بحرینی مسلح افواج

صلاح محمد علی الجلاہمہ – بحرینی مسلح افواج

ياسر شملان الجلاہمہ – بحرینی مسلح افواج

ہشام حميد سيف السويدی – بحرینی مسلح افواج

حافظ محمد نجم صالح المناعی – وزارت داخلہ

علی راشد علی راشد الجلاہمہ – بحرینی مسلح افواج

عبدالله راشد علی راشد الجلاہمہ – بحرینی وزارت داخلہ

علی جاسم محمد سعد الرميحی – بحرینی مسلح افواج

ابراہيم جاسم محمد سعد الرميحی – بحرینی مسلح افواج

ناصر جاسم محمد سعد الرميحی – بحرین میں امریکی بحری اڈہ (NSA)

محمد جاسم محمد سعد الرميحی – بحرینی مسلح افواج

محمد احمد محمد المناعی – بحرینی مسلح افواج

اس کے علاوہ ایک اور دستاویز کا انکشاف کیا گیا ہے جو سابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں طے پانے والے ریاض معاہدے پر روشنی ڈالتا ہے۔

سال 2013 میں کویتی وساطت سے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے پر امیرِ قطر کے دستخط موجود ہیں۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا جب اُس وقت کے خلیجی بحران کے سبب سعودی عرب ، امارات اور بحرین نے دوحہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔ اس اقدام کا بنیادی سبب قطر کا اپنے خلیجی پڑوسی ممالک کے ساتھ معاندانہ برتاؤ اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مسلسل مداخلت تھی۔

اگرچہ اس بات کا قوی امکان تھا کہ ریاض معاہدے پر امیرِ قطر کے دستخط کے بعد بحران کا خاتمہ ہو جائے گا تاہم قطر نے اس کی پاسداری نہ کی۔

دستاویز میں یہ شق بھی شامل تھی کہ خلیج تعاون کونسل کے کسی بھی رکن ملک کے اندرونی معاملات میں بلا واسطہ یا بالواسطہ مداخلت نہیں کی جائے گی۔

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی کسی بھی شہری کو پناہ یا شہریت فراہم نہیں کی جائے گی جو اپنے ملک کے نظام کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔

ان ملکوں کے اپوزیشن گروپوں اور معاند میڈیا کو سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔