.

سال 2013 میں وعدے کے باوجود قطر کی جانب سے الاخوان کی فنڈنگ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2013 میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد نے الاخوان المسلمین کو فنڈنگ روکنے کے حوالے سے ریاض میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم اس کے باوجود دوحہ کی جانب سے اس کی عدم پاسداری پر اصرار سامنے آیا۔ یہ موقف دہشت گردی کی سپورٹ میں قطر کے گہرے طور پر ملوث ہونے کو واضح کر رہا ہے۔

قطر نے 2013 میں ضمنی طور پر تسلیم کیا تھا کہ 90 برس پہلے قائم ہونے والی تنظیم الاخوان المسلمین خلیجی اور عرب ممالک کے امن کے عدم استحکام کا ذریعہ ہے۔ دوحہ نے تنظیم کو فنڈنگ فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور شیخ تمیم نے ریاض معاہدے میں اس پر دستخط بھی کیے۔ تاہم اس عہد کو توڑ دیا گیا اور قطر نے تمیم کی زبانی خود اس حقیقت کا اعتراف کر لیا کہ وہ ابھی تک تنظیم کو فنڈنگ فراہم کر رہا ہے !

سوال یہ ہے کہ قطر کو کون سی چیز الاخوان المسلمین تنظیم کے ساتھ اتنا مربوط اور اس کی فنڈنگ پر قائل کرتی ہے؟ الاخوان کے فکری مشرب کو جاننے والے کے لیے یہ امر باعث حیرت نہیں ہوگا۔ قطر میں بسنے والے الاخوان کے روحانی رہ نما کی قطری چینل پر گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جو خودکش کارروائیوں اور بے قصور افراد کے قتل کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ ہی نہیں بلکہ مذکورہ قطری چینل پر عراق اور شام میں القاعدہ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے تسلیم کیا کہ القاعدہ تنظیم کا طرزِ فکر الاخوان سے مخلتف نہیں ہے.. چینل کے میزبان نے بھی اس بات کا اقرار اور اس سے اتفاق کیا۔

دوحہ نے اپنے وعدوں کے باوجود الاخوان کو سینے سے لگا کر دہشت گردی کی فنڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے یہ شرم ناک اور رُسوا کن امر سامنے آتا ہے کہ دوحہ خلیجی ممالک اور خطے میں عدم استحکام اور حکومتی نظاموں کی تبدیلی کے ذریعے ایک بڑے ایجنڈے کے کثیر مقاصد کے کام آ رہا ہے۔