.

شامی مہاجرین کی لبنانی قبرستانوں میں تدفین پر پابندی لگ گئی

وادی البقاع میں لبنانی خاتون نے بیٹے کی قبر کھود کر مہاجر شامی بچے کو دفنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرزمین اپنے زندہ شہریوں کے لئے تو پہلے ہی تنگ تھی مگر اب تو اس کے مردوں کو ہمسایہ ملک اپنے قبرستانوں میں دفن کی اجازت دینے سے بھی انکاری نظر آتے ہیں ۔

سوشل میڈیا کے ذریعے مشہتر ہونے والی تصاویر میں ایک لبنانی خاتون کو اپنے بیٹے کی قبر کھودتے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ اسے پڑوس میں انتقال کر جانے والے شامی لڑکے کی تدفین کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ شامی لڑکا گزشتہ ہفتے فائرنگ کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

’’مہاجر وں کا کوئی وطن نہیں‘‘ نامی تنظیم نے متذکرہ تصاویر فیس بک پر شائع کی تھیں جن میں ایک لبنانی خاتون وادی البقاع میں قبر کھودتے دیکھی جا سکتی ہے۔ فیس بک پوسٹ کے مطابق:’’ لبنانی خاتون اپنے بیٹے کی قبر کو کھود رہی ہے، جوایک سال پہلے فوت ہو گیا تھا اور شامی لڑکے کو دفنا رہی ہے جو گزشتہ ہفتے وادی البقاع میں پناہ گزین کیمپ میں فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا تھا اور اسے گاوں والوں نے اپنے قبرستان میں دفنانے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ شامی لڑکے کو لبنانی قبرستان میں کیوں نہیں دفنانے دیا گیا؟لبنان کے مختلف شہروں کی بلدیات نے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پناہ گزینوں کو اپنے قبرستانوں میں دفنانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

لبنان میں تقریبا 11 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں ۔ یہ تعداد لبنان کی کل آبادی کا تیس فیصد بنتی ہے۔ ان میں سے متعدد مہاجرین وادی البقاع اور مغربی لبنان میں کیمپوں میں محصور ہیں اور بدترین حالات میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔