.

اسرائیل کی شمالی سرحد پر ’محتاط خاموشی‘ اور دیوار کی تعمیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحد پر گشت کیا جائے تو سات میٹر بلند کنکریٹ کی ایک دیوار اپنی جانب توجہ مبذول کرا لیتی ہے۔ یہ دیوار اسرائیلی یہودی بستی مسجاف کے مقابل لبنانی گاؤں کفر کلا کی سرحد پر واقع ہے۔ 1980ء کی دہائی میں ایک فلسطینی گروپ کی جانب سے اس بستی میں دراندازی کی کارروائی کی گئی تھی۔

اسرائیل کی جانب سے "حساس علاقوں" کی حیثیت سے معروف علاقوں میں تقریبا 20 کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر کے فیصلے کے پیچھے دراندازی اور دھاوے کا اندیشہ ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ حزب اللہ آئندہ جنگ میں سرحدی یہودی بستیوں پر قبضہ کرنے اور آباد کاروں کو یرغمال بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس وجہ سے اسرائیل مذکورہ منظر نامے کو روکنے کے لیے سیمنٹ کی دیوار بنانے اور سکیورٹی باڑھ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ رکاوٹیں بھی کھڑی کرے گا۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 81 کلومیٹر طویل سرحد پر جولائی 2006ء کی جنگ کے اختتام کے بعد 11 برس سے نسبتا خاموشی اور سکون چھایا ہوا ہے۔ تاہم اسرائیل کی حالیہ تشویش یہ ہے کہ دیوار کی تعمیر سرحدی علاقے میں کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے اور حزب اللہ یہاں موجود کام کرنے والوں اور فوجی اہل کاروں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے پیشگی حملے کا عندیہ

اگرچہ اسرائیل اور لبنان دونوں جانب سے یہ ہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ میں سے کوئی بھی فریق جنگ کا شعلہ بھڑکانے میں دل چسپی نہیں رکھتا ہے۔ تاہم اسرائیل کچھ عرصہ قبل یہ عندیہ دے چکا ہے کہ "وہ ایران کی طرف سے لبنان میں حزب اللہ کے لیے قائم کیے جانے والے اُس کارخانے کو نشانہ بنا سکتا ہے جہاں میزائل اور گولہ بارود تیار کیا جاتا ہے"۔ اس اقدام سے جنگ کا طبل بج سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج میں عسکری انٹیلی جنس کے شعبے کے سربراہ لبنان میں میزائل اور گولہ بارود تیار کرنے والے کارخانے کے تزویراتی خطرے سے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی کے وزیر اویگڈور لیبرمین نے بھی اپنے طور پر دھمکی دی تھی کہ اسرائیل مذکورہ نوعیت کے کارخانے پر کڑی نظر رکھے گا اور اس کے ساتھ بے نیازی نہیں برتی جا سکتی۔

اسرائیل کی جانب سے شمالی علاقے میں فوجی مشقوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے بدترین ممکنہ منظر نامے میں اسرائیل پر روزانہ 1500 کے قریب میزائل داغے جانے کی توقع رکھی جا رہی ہے اور اس میں یہودی بستیوں پر ممکنہ قبضے کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل اِزنکوٹ نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ حزب اللہ لبنان کے جنوب میں 240 دیہات میں پھیل چکی ہے اور ہر 3 سے 4 گھروں کے بیچ ایک گھر میں حزب اللہ کی فورس کے اہل کار موجود ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی جانب سے سرحد پر کیے جانے والے دو دوروں میں مقبوضہ شبعا فارمز میں داخلہ بھی شامل ہے۔ اس دوران ٹینکوں کو اگلی صفوں میں دیکھا گیا جس سے حالیہ طور پر پرسکون محاذ پر ماحول کی حرارت میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔