شام : الرقہ میں امریکی عسکری مشیران کی کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی فوجی ترجمان نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی عسکری مشیر شام میں داعش تنظیم کے گڑھ الرقہ شہر کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

کرنل رائن ڈیلن کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی اکثریت کا تعلق اسپیشل فورسز سے ہے اور وہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے اُن جنگجوؤں کے لیے مشاورت کی ذمے داری انجام دے رہے ہیں جو شدت پسندوں کے خلاف برسرِ جنگ ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اہل کار براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہیں بلکہ فضائی حملوں سمیت اُسی انداز پر کوآرڈی نیشن انجام دے رہے ہیں جس طرح موصل میں امریکی فوجیوں نے عراقی فوجی آپریشن کو سپورٹ کیا۔ ترجمان کے مطابق الرقہ میں امریکی فوجیوں کی تعداد "سیکڑوں" میں نہیں ہے۔

الرقہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے لیے حملے کا آغاز نومبر 2016 میں ہوا تھا جب کہ 6 جون 2017 کو سیریئن ڈیموکریٹک فورسز شہر میں داخل ہو گئیں۔

ڈیلن نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے دھماکا خیز ڈرون طیاروں کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے اور موصل میں بھی انہوں نے اسی طریقہ کار پر انحصار کیا۔

امریکی میرینز بھی الرقہ میں فوجی کارروائیوں کی سپورٹ کے واسطے آرٹلری بیٹریز کا استعمال کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں