.

اردن، فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے بیچ "البحار نہر" سے متعلق معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن ، فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امریکا کے زیر سرپرستی ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں "البحار نہر" کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ منصوبے کا مقصد خطے میں پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے بحر احمر اور بحر مُردار کے پانی سے نمک کے اخراج کے بعد اسے استعمال کے قابل بنانا ہے۔

معاہدے کے تحت ایسی پائپ لائنیں بنائی جائیں گی جن کے ذریعے بحر احمر کا نمکین پانی بحرِ مردار میں ڈالا جائے گا۔ یہ منصوبہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں پانی کے بحران کا مقابلہ کرنے میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہو گا۔

مذکورہ معاہدے کا اعلان مغربی بیت المقدس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس کا انعقاد مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلیٹ ، علاقائی تعاون کے اسرائیلی وزیر تساہی ہنجبے ارو فلسطینی واٹر اتھارٹی کے سربراہ مازن غنیم نے کیا تھا۔

امریکی خصوصی ایلچی کے مطابق امریکا اس معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے جس کے ذریعے اسرائیل سے 3.2 کروڑ کیوبک فٹ پانی فلسطینیوں کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے ، لہذا یہ معاہدہ دو طرفہ تعاون تک پہنچنے کے لیے ایک نمونہ ہے۔

تقریبا ایک ہفتہ قبل امریکی سپورٹ سے جنین کو بجلی کے پاور اسٹیشن کی فراہمی کا معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔