.

مسجد اقصی میں 3 فلسطینی شہید اور 2 اسرائیلی پولیس اہل کار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے جمعے کے روز مسجد اقصی کے صحن میں 3 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ اس سے قبل تینوں فلسطینیوں نے مسجد کے بابِ اسباط سے نکل کر قابض اسرائیلی پولیس کے ایک گروپ کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں اسرائیلی حکام نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ واقعے میں دو پولیس اہل کار مارے گئے ہیں۔

حملہ آور فلسطینیوں کے مسجد اقصی کے صحن میں آنے کے بعد وہاں مسلح جھڑپ ہوئی اور اُم الفحم شہر سے تعلق رکھنے والے تینوں فلسطینی محمد احمد جبارين (29 سال) ، محمد عبد اللطيف جبارين (19 سال) اور محمد احمد مفضل جبارين (19 سال) جاں بحق ہو گئے۔

واقعے کے فورا بعد قابض اسرائیلی فوج نے مسجدِ اقصی کی بندش کر دی اور بیت المقدس شہر کے اولڈ ٹاؤن کی مکمل ناکا بندی کر کے اسے باقی شہر سے علاحدہ کر دیا۔

بیت المقدس کے مفتی اعظم کی گرفتاری

ادھر فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام نے جمعے کے روز بیت المقدس کے مفتی اعظم شیخ محمد حسين کو مسجدِ اقصی کے احاطے سے گرفتار کر لیا۔ مفتی اعظم کے ایک ساتحی نے ٹیلیفون پر بتایا کہ شیخ محمد حسین کو نماز جمعہ کے بعد گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کے حوالے سے اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

مسجد اقصی کی بندش اور اس میں نماز کی ممانعت

بعد ازاں اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ وہ آج مسجد اقصی میں نماز جمعہ کا اجتماع نہیں ہونے دے گی۔ اس دوران مسجد کے پہرے داروں میں سے 12 کو حراست میں لے کر ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے۔

سال 1969 میں مسجد اقصی میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع کو روک دیا گیا۔

اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق اگلے نوٹیفکیشن تک مسجد اقصی کو بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "مسجد کی بندش ایک روز کے لیے عمل میں آئی ہے"۔

مفتی اعظم کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

بیت المقدس کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے اپنی گرفتاری سے قبل فلسطینیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسجد اقصی کی بندش کے فیصلے کے باوجود نماز جمعہ مسجد میں ہی ادا کریں۔ اس سلسلے میں شیخ حسین بابِ اسباط پہنچے تھے مگر اسرائیلی پولیس نے ان کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔