.

انقرہ نے جرمن ارکان پارلیمنٹ کو اپنے فوجیوں کی ملاقات سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی میں دفاعی امور کے ماہر رائنر آرنلڈ کا کہنا ہے کہ انقرہ نے جرمن ارکان پارلیمنٹ کو ترکی کے شہر قونیہ کے قریب واقع "اِنجرلیک" فضائی فوجی اڈے میں خدمات انجام دینے والے جرمن فوجیوں سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جو نیٹو اتحاد کے ان دونوں رکن ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا نیا سبب ہے۔

ترکی کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے جرمنی نے اپنے فوجیوں کو انجرلیک اڈے سے منتقل کر کے اردن بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ جرمنی کی مسلح افواج کی جانب سے تاریخی وجوہات کی بِنا پر پارلیمنٹ کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ برلن کا بدستور اصرار ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ کو ملک سے باہر جرمن فوجیوں تک پہنچنے کی اجازت دی جائے۔

آرنلڈ جن کی جماعت حکمراں اتحاد میں سب سے چھوٹی شراکت دار ہے ، ان کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت بالخصوص چانسلر اینگلا میرکل کو اب مطلوبہ اقدامات کرنا ہوں گے تا کہ ارکان پارلیمنٹ کی قونیہ میں جرمن فوجیوں سے ملاقات کو جلد ممکن بنایا جا سکے۔

ترکی کا جرمنی کے ساتھ اختلاف کئی معاملات کے حوالے سے ہے۔ ان میں برلن کا سیاسی پناہ کا مطالبہ کرنے والے اُن افراد کو حوالے کرنے سے انکار بھی شامل ہے جن پر انقرہ گزشتہ جولائی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے۔ ادھر برلن کا مطالبہ ہے کہ انقرہ کی جیل میں موجود تُرک جرمن صحافی کو رہا کیا جائے۔