.

قطر نے امارات میں افراتفری پھیلانے میں مدد کی: اخوان رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے متحدہ عرب امارات میں تخریبی سرگرمیوں کے باعث 15 سال قید کی سزا کا سامنا کرنے والے ایک سرکردہ رکن نے اعتراف کیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر نے یو اے ای میں افراتفری پھیلانے میں ان کی مدد کی تھی۔

ابو ظہبی میں قید اخوان المسلمون کے سرکردہ لیڈر عبدالرحمان بن صبیح السویدی نے’ابو ظہبی‘ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قطر کی جانب سے اخوان المسلمون کے کارکنان اور جماعت سے وابستہ خفیہ سیل کے عناصر کو پاسپورٹس، رہائش اور بھاری رقوم فراہم کی تھیں تاکہ ان کی مدد سے متحدہ عرب امارات میں بد امنی کو ہوا دی جا سکے۔

اخوان کے رکن کا کہنا ہے کہ قطری ذرائع ابلاغ کی طرف سے بھی سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات کے خلاف مہم چلانے اور امارات کے حوالے سے افواہیں پھیلانے کے لیے رقوم فراہم کی گئیں۔ عرب اور قطری شخصیات نے اخوان کے خفیہ سیل سے وابستہ افراد کو سوشل میڈیا پر ابو ظہبی کے خلاف مہم چلانے کی باقاعدہ تربیت فراہم کی تھی۔

ابن صبیح السویدی کا کہنا ہے کہ ہمیں احتجاجی مظاہروں کے مقامات کو استعمال کرنے کے لیے پانچ پانچ دن کی تربیت دی گئی۔ تربیت فراہم کرنے والوں میں قطر اور دوسرے عرب ممالک کے ماہرین شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن اور سوشل میڈیا پر امارات کے خلاف مہم ہمارے اہداف کا حصہ تھی۔ ہم دوسرے عرب ملکوں میں عرب بہاریہ کی طرز پر متحدہ عرب امارات میں بھی حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے قطر کی جانب سے ہمیں دامے درہمے اور سخنے تعاون حاصل رہا۔

اخوان رہ نما نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ متحدہ عرب امارات میں انارکی پھیلانے کے لیے حالات سازگار ہوچکے ہیں اور بغاوت وقت کی ضرورت ہے۔ دوسرے ملکوں کی طرح اب امارات میں بھی لوگ سڑکوں پر حکومت کے خلاف نکل کھڑے ہوں گے۔