.

حوثیوں کے عقوبت خانوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک

’قیدیوں کو سوریج کا پانی پینے اور عریاں رہنے پرمجبور کیا جاتا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے قائم کردہ عقوبت خانوں میں قید شہریوں نے زندانوں میں ڈھائے جانے والے لرزہ خیز مظالم کا انکشاف کیا ہے۔ قیدیوں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی قائم کردہ جیلوں میں انہیں سیوریج کا پانی پینے اور ننگا رہنے پرمجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تشدد اور اذیت رسانی کے کئی دوسرے سنگین حربے آزمائے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس امر کا انکشاف صنعاء میں حوثیوں کی نام نہاد فوج داری عدالت کے رو بہ رو پیش کیے گئے قیدیوں نے کیا۔

حال ہی میں حوثیوں کی فوجی عدالت میں 36 مغوی شہریوں کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حوثی جج عبدہ اسماعیل راجح کے سامنے بیان دیتے ہوئے صنعاء یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر یوسف البواب نے بتایا کہ ان کے ساتھ جیلوں میں انتہائی وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک بار تمام قیدیوں کو ایک دوسرے کے سامنے مکمل طور پر ننگا کردیا گیا اور انہیں مجبورا کپڑے اتارنے کا کہنا گیا۔

قیدی یمنی پروفیسر کا کہنا تھا کہ حوثی جیلر انہیں آہنی لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بناتے۔ ہمیں پانچ پانچ دن تک مسلسل لٹکا کر رکھا جاتا۔ دوران قید ہمیں سیوریج کا گندا پانی پینے پرمجبور کیا جاتا۔ ہمیں ٹوائلٹ جانے سے منع کیا جاتا اور قضائے حاجت اپنی کوٹھڑیوں میں پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا۔

انہوں نے بتایا کہ حوثیوں کے ہولناک تشدد کے نتیجے میں ان کے ایک ساتھی کے گردے ناکارہ ہوگئے مگر اسے کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔

قیدیوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کی قائم کردہ جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے یا انہیں تشدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حق دیا جائے۔

یمن کے عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کی اقارب خواتین بھی داخل ہونے کی کوشش کررہی تھیں مگر عدالت نے قیدیوں کی قریبی خواتین کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔

بعد ازاں حوثی جج نے قیدیوں کے کیس کی سماعت وسط ستمبر تک ملتوی کردی۔

ادھر یمن کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور سماجی کارکنوں نے حوثیوں کی جانب سے ٹرائل کا سامنا کرنے والے 36 یمنی شہریوں کی حمایت میں آن لائن مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد حوثیوں کے قائم کردہ عقوبت خانوں میں قید یمنی شہریوں سے ہونے والے غیرانسانی سلوک کو اجاگر کرنا ہے۔