.

شام میں مزید فوجی اڈوں کے قیام کے ایرانی منصوبے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکومت شام میں اپنے جنگجوؤں اور فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے وہاں پر مزید فوجی اڈوں کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

اخبار’الشرق الاوسط‘ نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایرانی عسکری انتظامیہ نے شام میں اسد رجیم سے ایک فوجی اڈا حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی حکومت وسطی شام میں ایک بری فضائی اڈے کے حصول کے لیے دمشق سے بات چیت کررہی ہے۔ اس مجوزہ فوجی اڈے پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے جنگجوؤں کو تعینات کیا جائے گا۔

اسرائیل کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ وسطی شام میں قائم کردہ فوجی اور ہوائی اڈوں میں پاکستان، افغانستان سے لائے گئے اجرتی قاتلوں اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سمیت پانچ ہزار جنگجوؤں کو تعینات کیا جائے گا جو کسی بھی ہنگامی حالت میں بشارالاسد کے دفاع میں لڑائی میں حصہ لیں گے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران طرطوس بندرگاہ کے حصول کے لیے بھی کوشاں ہے تاکہ اسے ایک بحریہ کے اڈے کے طورپر استعمال کیا جاسکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران دمشق کے ساتھ عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ شام میں اپنے مستقل اڈوں کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے۔ شام میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کی تحریک کے آغاز ہی سے ایران نے اپنے عسکری مشیر دمشق روانہ کردیے تھے۔ اس کے بعد باغیوں کی تحریک کچلنے کے لیے ایران اور بشارالاسد حکومت کے درمیان مادی، معنوی، لاجسٹک اور عسکری تعاون میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایران نے پاکستان، افغانستان اور دوسرے ملکوں سے اجرتی قاتل بھرتی کرکے شام بھیجنے شروع کیے۔ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دمشق کےدفاع میں استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف حزب اللہ شام کی جنگ میں جھونکے اپنے جنگجوؤں پر سالانہ 800 ملین ڈالر کی رقم خرچ کرتی رہی ہے۔