.

شام کو رُسوخ کے لحاظ سے تقسیم کرنے والی 4 غیر ملکی طاقتیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کے عراق میں مضبوط ترین گڑھ موصل سے ہاتھ دھونے اور شام میں رِقّہ سے بھی عنقریب محرومی کے امکان کے بعد اس بحث نے پھر سے زور پکڑ لیا ہے کہ شام کا مستقبل کیا ہوگا اور شام میں امریکی ، روسی ، ایرانی اور تُرک افواج اپنے زیرِ رسوخ علاقوں کو کس طرح تقسیم کریں گی۔

گنجان اور بھاری عسکری وجود نے شام کے حقیقی نقشے اور مستقبل کو رُسوخ کی تقسیم کے علاقوں میں بدل ڈالا ہے بالخصوص شام میں داعش تنظیم کے پہلے اور شاید آخری گڑھ رقّہ میں داعش کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کے آغاز کے بعد۔

امریکی افواج کردوں کے ساتھ ملک کر شام کے مشرق یعنی رقّہ ، دیر الزور اور الحسکہ میں داعش کے خلاف برسرِ جنگ ہیں اور وہ شام کے جنوب میں درعا اور قنیطرہ میں اپوزیشن گروپوں کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ رقّہ شہر کو واپس لیے جانے کے بعد تجزیہ کاروں کا غالب گمان ہے کہ کرُدوں کے لیے امریکی سپورٹ جاری رہے گی تا کہ شہر پر ان کا کنٹرول باقی رہے۔

ادھر روس حمیمیم کے اڈے کو اپنی افواج کا صدر مرکز بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی فوج شامی ساحل پر تعینات ہے جس میں طرطوس کی بندرگاہ بھی شامل ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ روم میں ایک مستقل اڈے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

جہاں تک ایرانیوں کا تعلق ہے جو لڑائی کے محاذوں پر کثیر القومی ملیشیا کے نظام کو سپورٹ کر رہے ہیں.. تو وہ دو فوجی اڈوں کے قیام کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان میں ایک فضائی اور دوسرا زمینی اڈہ ہوگا۔ یہ خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ امریکا اور روس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ایرانیوں کو عراق ، اردن اور اسرائیل کی سرحد کے نزدیک واقع علاقوں سے دور کرنا ہو گا۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی انتطامیہ نے بشار حکومت سے شامی سرزمین میں ایک ہوائی اڈہ کرائے پر حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک فضائی اور زمینی اڈہ قائم کیے جانے کے حوالے سے بھی شام اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ اس اڈے پر ایرانی نظام کے پیروکار جنگجو تعینات کیے جائیں گے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق ہوائی اڈے اور فوجی اڈے کو افغان اور پاکستانی ملیشیاؤں کے پانچ ہزار ارکان کے ساتھ مربوط کیا جائے گا جو اس وقت ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر قیادت شامی حکومت کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک ہیں۔

رہ گئی بات ترکی کی تو اُس نے شام کے شمال میں کُردوں کے خلاف عسکری آپریشن "فرات کی ڈھال" میں شامی اپوزیشن کے ساتھ مل کر شرکت کی.. اور وہ جرابلس سے اعزاز تک ایک سیف زون قائم کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے۔