.

عراقی حکام کی شام میں داعش کے خلاف فوجی مداخلت کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد جمال نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے ملک کا شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ عراق کا آئین کسی ملک کے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

لیکن تہران میں عراق کے سفیر راجح الموساوی نے ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیےفوجی مداخلت سے گریز نہیں کرے گا۔اس کام میں مدد کے لیے عراق کے ایران جیسے دوست موجود ہیں۔

عراقی حکام نے فوری طور پر اس کی تردید کی ہے کہ بغداد شام میں کوئی فوجی مداخلت کرے گا۔انھوں نے اس طرح کے بیانات کی مذمت کی ہے اور بعض حکام نے ایران پر عراقی سفیر کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

عراق کے نائب صدر اسامہ النجیفی نے موساوی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے اور اس کا ملک کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔