.

فرانس کی خلیجی بحران کےحل کے لیے کویتی مساعی کی تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے خلیجی ملکوں کے درمیان پائے جانے والے سفارتی تنازع کے حل کے لیے کویت کی ثالثی کی مساعی کی مکمل تائید اور حمایت کرتے ہوئے فریقین پر بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا ہے۔

العربیہ کے مطابق فرانسیسی وزیرخارجہ جو ایف لوڈریان نے ہفتے کو اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ہم منصب عادل الجبیر سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی خدمات کی تعریف کی۔ جون ایف لوڈریان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انتہا پسندانہ نظریات کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

جدہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم کویت کی ثالثی کی بھرپور تائید اور حمایت کرتے ہیں۔ ہم ایک معاون کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ توقع ہے کہ کویت کی ثالثی کی مساعی خلیجی ملکوں کےدرمیان جاری سفارتی تنازع کے حل کا موثر ذریعہ ثابت ہوں گی۔

انہوں نے خلیجی ملکوں پر مسائل کےحل کے لیے بات چیت پر زور دیا۔ لوڈریان کا کہنا تھا کہ فرانس تنازع میں شامل تمام ممالک سے بات چیت اور حالات کو پرسکون رکھنے کا خواہاں ہے۔ پیرس خلیجی ملکوں کے مابین بات چیت کی بحالی کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے کویتی مساعی کی تائید اور حمایت کرتا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک خلیجی ریاستوں کے درمیان بامقصد بات چیت کی بحالی کے لیے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کا ماحول پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔

لوڈریان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور ہمیں سعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر گہری تشویش لاحق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قطر اور اس کا بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کو بات چیت، پرسکون رہنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا پیغام دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت میں فرانس، سعودیہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے سے اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ان کے فرانسیسی ہم منصب نے دہشت گردی کی فنڈنگ اور اس کی معاونت مسترد کردی ہے۔ الجبیر نے کہا کہ ہم فرانس کو قطر کی طرف سے مخالفانہ روش اور حدود سے تجاوز کی تفصیلات جلد فراہم کریں گے۔

سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ جون ایف لوڈریان سے ملاقات میں خلیجی بحران سمیت دیگر حل طلب مسائل اور دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام، عراق اور یمن کے بحران بھی زیربحث آئے۔

ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے قطری قیادت سے بات چیت کی ہے۔ قطری حکومت ملک کی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے پڑوسی ملکوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

قبل ازیں انہوں نے دوحہ میں قطری وزیرخارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث تمام گروپوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب دہشت گردی کے شکار ہیں اور ہمیں اپنے اتحادیوں کےساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا۔