.

مسجد الاقصیٰ کے دروازے بند، ذمے داروں کا بھی داخلہ ممنوع

مسلمانوں کے قبلۂ اول کے بیرونی دروازوں پر میٹل ڈیٹکٹرز اور سکیورٹی کیمروں کی تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں مسلسل تیسرے روز فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔اسرائیلی حکام نے دروازوں پر ڈیٹکٹرز اور کیمروں کی تنصیب تک مسجد الاقصیٰ کے حکام کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

آج نماز ظہر مسجد الاقصیٰ کے باہر ادا کی گئی ہے۔ قبل ازیں اسرائیل نے کہا تھا کو مسجد الاقصیٰ کو اتوار کے روز بتدریج زائرین اور نمازیوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اسرائیل نے گذشتہ کئی عشروں میں پہلی مرتبہ جمعہ کے روز مسجد الاقصیٰ کو تشدد کے ایک واقعے کے بعد بند کردیا تھا۔ تب تین عرب شہریوں نے خود کار ہتھیاروں سے اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی تھی جس سے دو پولیس اہلکار ہوگئے تھے۔اسرائیلی پولیس اہلکاروں نے مسجد میں گھس کر ان تینوں حملہ آور کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قبل ازیں کہا تھا کہ سکیورٹی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد مسجد اقصیٰ کو بتدریج کھول دیا جائے گا اور اس کے داخلی دروازوں پر اضافی سکیورٹی کیمرے نصب کیے جائیں گے تا کہ کوئی بھی ہتھیار اسمگل کر کے اندر نہ لے جایا جاسکے۔

مسجد الاقصیٰ میں حملے کے بعد نیتن یاہو نے گذشتہ کئی مہینوں کے بعد پہلی مرتبہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔فلسطینی صدر نے حملے کی مذمت کی ہے اور مسجد الاقصیٰ کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسجد اقصیٰ وقف کے نگران ملک اردن نے بھی اس کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیتن یاہو نے مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول کی بندش پر ان کے خدشات دور کرنے کے لیے کہا تھا کہ اس کے پہلے انتظام ہی کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ غزہ کی پٹی کی حکمراں جماعت حماس نے اسرائیلی اقدامات کو ایک ’’ مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا ہے اور فلسطینیوں سے مزید حملوں کے لیے کہا ہے۔