.

اپنے جاسوسوں کو صحافیوں کے روپ میں بھیجتے ہیں: سابق ایرانی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق وزیرِ انٹیلی جنس علی فلاحیان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں سکیورٹی ادارے معلومات جمع کرنے کے واسطے اپنے ایجنٹوں کو صحافی یا تاجر کے روپ میں بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ فلاحیان نے یہ انکشاف اتوار کے روز یوٹیوب پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کیا۔

صحافی حسین دہباشی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فلاحیان نے بتایا کہ 90ء کی دہائی میں وزارت انٹیلی جنس نے اقتصادی سرگرمیاں بھی انجام دیں جن کا مقصد اندرون و بیرون ملک معلومات اکٹھی کرنے کے واسطے انٹیلی جنس کی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے تاہم اس کا ٹیمپو کم ہو گیا ہے۔

فلاحیان نے واضح کیا کہ یہ ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم اپنے کسی ایجنٹ کو بیرون ملک مثلا جرمنی ، روس اور امریکا وغیرہ انٹیلی جنس ایجنٹ کے روپ میں بھیج دیں۔

یہ اعتراف ممکنہ طور پر کسی ایرانی وزیر کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا بیان ہوگا۔ اسی واسطے ایرانی حلقوں نے سوشل میڈیا پر اس کو وسیع پیمانے پر پھیلایا ہے۔

ایرانی نظام کی جانب سے 1988 میں اجتماعی سزائے موت اور پھانسیوں کے حوالے سے فلاحیان نے کہا کہ اس معاملے میں خمینی کا موقف سب سے زیادہ متشدد تھا۔ وہ سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مصر رہا۔ ان قیدیوں میں اکثریت کا تعلق حزب اختلاف کی تنظیم مجاہدین خلق سے تھا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق خمینی جن سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سلانے کے درپے تھا ان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔

البتہ فلاحیان کا کہنا تھا کہ انہیں 1988 میں اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے والے قیدیوں کی تعداد کا علم نہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہو گی۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی پولیس (انٹرپول) کی جانب سے علی فلاحیان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ وارنٹ ارجںٹائن کی ایک عدالت کی درخواست پر جاری کیے گئے۔ عدالت کا موقف تھا کہ فلاحیان اور دیگر ایرانی حکام 1994 میں دارالحکومت بیونس آئرس میں یہودیوں کے ایک مرکز پر دھماکے کی کارروائی میں ملوث ہیں جس کے نتیجے میں 85 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔