.

باغیوں کی لوٹ مار سے صنعاء میں ایندھن کا شدید بحران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی الحدیدہ پورٹس کارپوریشن کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے لوٹ مار، بدعنوانی اور توڑپھوڑ کے نتیجے میں صنعاء کو ایندھن کی سپلائی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کے باعث دارالحکومت میں ایندھن کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔

العربیہ کے مطابق الحدیدہ پورٹس کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ پر لائے گئے پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو ایک طرف یمنی باغی لوٹ رہے ہیں اور دوسری جانب اسمگلر اس بندرگاہ کو افریقی ملکوں کو تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ الحدیدہ بندرگاہ پر سنہ اکتوبر 2014ء سے ایران نواز حوثی ملیشیا کا تسلط ہے۔ یمن میں باغیوں کی عسکری سرگرمیوں کا سب سے بڑا سہارا یہی بندرگاہ ہے جہاں سے باغیوں کو اسلحہ اور جنگی سامان کی کمک پہنچائی جا رہی ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے باغیوں پر زور دیا تھا کہ وہ الحدیدہ بندرگاہ کا کنٹرول آئینی حکومت کے حوالے کریں اور ٹیکسوں کی مد میں جمع ہونے والی رقوم مرکزی بنک میں جمع کرائیں مگر باغیوں نے یہ مطالبات ماننے سے صاف انکار کردیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی اور سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار الحدیدہ بندرگاہ پر لایا جانے والا تیل اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع ہونے والی رقوم میں بڑے پیمانے پر خورد برد کررہے ہیں۔ کسٹم ٹیکس کےحصول کی ذمہ داری حوثیوں کی مقرب شخصیات اور کمپنیوں کو سونپی گئی ہے جو جمع ہونےوالی رقوم کا وافر حصہ باغیوں کو پہنچا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حوثی باغی شپنگ کمپنیوں اور کاروباری شخصیات کو بلیک میل بھی کرتے ہیں۔ ان سے آزادانہ تجارت اور سمندری راستے سے سامان کی آمد وترسیل کے پرمٹ کے بدلے میں بھاری رقوم اینٹھی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق الحدیدہ بندرگاہ پر لایا جانے والا ایندھن جو صنعاء میں بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے لیے مختص ہے کو افریقی ملکوں کو اسمگل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل اور پٹرول کی بڑی مقدار یمن میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے جس کی آمدن حوثی باغیوں کی جیبوں میں جاتی ہے۔