.

موصل کی خود کش بمبار اور خواتین کی دہشت گرد تنظیمیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں داعش کے قبضے سے آزاد کرائے عراقی شہر موصل کی ایک خود کش بمبار خاتون کے طریقہ واردات نے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے تشکیل کردہ خواتین کی تنظیموں نے ایک بار پھر غیرمعمولی توجہ حاصل کی ہے۔ موصل میں داعش کے چنگل سے فرار ہونے والوں کے بھیس میں ایک خود کش بمبار نے خود کو ایک متاثرہ خاتون باور کرانے کے لیے بغل میں ایک بچہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ یہ محض ایک ڈھونگ تھا جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی نظروں سے بچتے ہوئے راہ فرار اختیار کرنا تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے موصل کی داعشی خود کش بمبار کے طریقہ واردات کے تناظر میں ان دہشت گرد تنظیموں پر روشنی ڈالی ہے جو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے قائم کی گئیں اور ان میں خواتین کو بھرتی کیا گیا۔

خواتین کی دہشت گرد تنظیموں کے ڈانڈے بھی شیعہ اور سنی مسالک کے ان سیاسی اسلام کے پرچارک دھاروں سے ملتے ہیں جنہوں نے اسلام اور سیاست کو یکجا کرنے کےلیے بنیاد پرستی کا سہارا لیا۔ خواتین کی یہ تنظیمیں انہی شیعہ یا سنی سیاسی اسلام کی پرچارک جماعتوں کی بنیاد پرست شاخیں قرار دی جاتی ہیں۔

سیاسی اسلام کی بھول بھلیوں میں خواتین کے لیے سب سے پہلے اخوان المسلمون کے مرشد عام اور جماعت کے بانی حسن البنا نے تشکیل دیا۔ سنہ1932ء میں اخوان المسلمون کے خواتین ونگ کو ’اخوات المسلمات بریگیڈ‘ کا نام دیا گیا۔ کچھ عرصہ تک خواتین ونگ کی براہ راست قیادت مرشد عام ہی کے پاس رہی تاہم بعد ازاں اخوان کی خاتون روحانی رہ نما زینب الغزالی کی شکل میں انہیں ایک لیڈر مل گئیں۔ زینب الغزالی نے اخوان المسلمون کے خواتین ونگ کو منظم کیا اور ہر ہفتے وہ خواتین کی جماعت کے دروس کا اہتمام کرنے لگیں۔

سنہ 1993ء کو ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ’اخوات زینب‘ کے نام سے خواتین کی ایک تنظیم قائم کی۔ بہ ظاہر اس تنظیم کی ذمہ داریوں میں حلقہ خواتین میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا تھا۔ جلد ہی یہ تنظیم ایرانی پاسداران انقلاب کی ویمن اسپیشل فورس کی شکل اختیار کرگئی۔

سنہ 2014ء کو شام کے شہر الرقہ میں ’داعش‘ نے الخنساء اور ’الحسبہ‘ نامی خواتین بریگیڈ تشکیل دیے اور ان کی مدد سے خواتین پر داعش کی شریعت کے نفاذ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

خواتین کی مذکورہ تنظیموں اور حسن البنا، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کی تشکیل کردہ تنظیموں کا پس منظر ایک ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب بنیاد پرستانہ نظریات کی ہم آہنگ تنظیمیں تھیں جن کا مقصد ایک مخصوص سیاسی پروگرام کو آگے بڑھانا اور خواتین کوان میں شامل کرنا تھا۔

مشترکہ قدریں

ایران میں تشکیل کردہ ’اخوات زینب‘ داعش کی قائم کردہ الخنساء یا الحسبہ نامی تنظیموں سے قطعا مختلف نہیں۔ اخوات زینب براہ راست ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔ اس میں شامل خواتین کا ایک مخصوص یونیفارم ہے۔ تاہم فرق صرف یہ ہے کہ ان خواتین کا ایرانی حکومت کے ساتھ تعلق ہے۔

داعش کا تشکیل کردہ خنساء بریگیڈ سنہ 2014ء کو سامنے آیا۔ اس میں تیونس، یورپی ممالک، چیچنیا اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے خواتین کو بھرتی کیا گیا۔ یہ گروپ براہ راست داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کو جواب دہ ہے۔

اس کی تشکیل کا مقصد خواتین میں داعش کی فکرکو عام کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین پر داعش کے قوانین نافذ کرنا بھی ہے۔ خنساء بریگیڈ کی داعشی جنگجو عورتیں تنظیم کی مخالفت کرنے والی خواتین کی گرفتاری اور انہیں سزائیں دینے کی مجاز ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم خواتین کو عسکری تربیت فراہم کرنے، انہیں اسلحہ استعمال کرنے اور لڑائی کے لیے تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔

داعش کا تشکیل کردہ ’الاحتسابیہ‘ بریگیڈ بھی تنظیم کے احکامات کے نفاذ کا کام کرتا ہے۔ اس گروپ سے وابستہ عورتیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آڑ میں گھروں میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتی، بازاروں اور شاہراؤں پر خواتین کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی اور ان کے خلاف مختلف کارروائیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس گروپ سے وابستہ خواتین کو انٹرنیٹ استعمال کرنے اور سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی بھی تربیت دی گئی۔ داعش کے الاحتسابیہ بریگیڈ میں برطانیہ اور فرانس سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی نمایاں دیکھی گئی ہیں۔

اس گروپ کی انچارج کو ام مہاجر یا امن ریان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ تیونسی نژاد ہے۔ اس کے علاوہ داعش کے خواتین بریگیڈ میں شامل عورتوں میں ام حارثہ، ام وقاص، ام عبیدہ داعشی کمانڈروں کی بیگمات ہیں۔

اخوات زینب

سنہ 1993ء کو ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ’اخوات زینب‘ کے نام سے خواتین کی ایک تنظیم قائم کی۔ بہ ظاہر اس تنظیم کی ذمہ داریوں میں حلقہ خواتین میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا تھا۔ جلد ہی یہ تنظیم ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم بسیج فورس کی ویمن اسپیشل فورس کی شکل اختیار کرگئی۔

عراقی کردستان میں موجود ایک ایرانی قانون دان نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ خامنہ ای کی تشکیل کردہ اخوات زینب نامی تنظیم کے بارے میں جہاں تک ہمیں معلومات ملی ہیں وہ انتظامی معاملات میں خود مختار ہے۔ اس تنظیم کا اپنا مکمل انتظامی ڈھانچہ ہے تاہم اس کی فنڈنگ بسیج فورس کی طرف سے کی جاتی ہے۔ اس کے مالی تصرفات کیا کیا ہیں اور اس گروپ سے وابستہ خواتین کی تنخواہیں کتنی ہیں؟ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

داعش کے خواتین بریگیڈ اور ایرانی سپریم لیڈر کی تشکیل کردہ اخوات زینب میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں شامل خواتین میں بیشتر سرکردہ رہ نماؤں کی بیگمات، بیٹیاں یا ان کے مقرب خواتین ہیں۔

خصوصی گشت

ایران میں قائم کردہ اخوات زینب سے وابستہ خواتین ایرانی شہروں میں مرد اہلکاروں کے ہمراہ خصوصی گشت کرتی ہیں۔ وہ پبلک مقامات پر موجود خواتین کو پند نصائح کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ خواتین حجاب کا اہتمام کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ اخوات زینب کو خواتین کو گرفتار کرنے، ریاستی قانون کی خلاف ورزی کرنے والی عورتوں سے عہد وپیمان کرنے، خلاف قانون کام کرنے والی خواتین کو جرمانے کرنے اور انہیں عدالتوں میں پیش کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

خصوصی گشت کے دوران اخوات زینب سے وابستہ خواتین اہلکار عورتوں کی تلاشی لیتی ہیں۔ انہیں احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے لکڑی کی لاٹھیاں اور برقی کرنٹ پیدا کرنے والے آلات بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہرے کرنے والی خواتین کو منتشر کرسکیں۔

اخوات زینب کی دیگر ذمہ داریوں میں خواتین کی جاسوسی کرنا بھی شامل ہے۔ کسی مشکوک عورت کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اخوات زینب کی اہلکاروں کو متعین کیا جاتا ہے۔ اگر مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی ہوتو اس خاتون کو بسیج فورس کے حوالے کردیا جاتا ہےیا اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جاتی ہے۔

بنات مرشد عام

سنہ 1932ء جو اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا نے خواتین ونگ قائم کرتے ہوئے اس کا نام ’اخوات المسلمات‘ رکھا اور اس گروپ کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھی۔ تاہم اخوات المسلمات کی سیکرٹری کی ذمہ داری لبیبہ احمد کو سونپی گئی۔ لبینہ اخوات المسلمات اور حسن البنا کے درمیان براہ راست رابطے کا ذریعہ تھی۔

اخوات المسلمات کی ایک ذیلی نشرو اشاعت دعوت خواتین میں اخوان المسلمون کی سیاسی فکر راسخ کرنے کے لیے تشکیل دی گئی۔ بہ ظاہر اس کمیٹی کامقصد خواتین کو برائیوں سے روکنا، اخلاق حسنہ کی تلقین، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور معاشرے کی خواتین پر اسلام کا رنگ چڑھانا تھا۔

سنہ 1944ء کو اخوات المسلمات کی پہلی ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں 12 خواتین کو شامل کیا گیا۔ سنہ 1965ء کے بحران تک یہ تنظیم پوری شدت کے ساتھ سرگرم عمل رہی۔ اس کا آسان ہدف مصر کے غریب گھرانوں کی خواتین تھیں۔ اخوات المسلمات سے وابستہ خواتین پبلک مقامات پر بھی عورتوں میں اپنی دعوت پھیلانے کی کوشش کرتیں۔