.

موصل کے بعد.. آئندہ معرکہ تلعفر میں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی شہر موصل میں داعش تنظیم کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد آئندہ معرکہ تلعفر اور اس کے اطراف میں ہوگا۔ اس کا مقصد داعش تنظیم کے بقیہ ماندہ خطرے کو بھی جلد از جلد کچل ڈالنا ہے۔

تلعفر میں آبادی کے پیچیدہ تناسب کے سبب وزیراعظم حیدر العبادی مشترکہ فورسز کو شہر پر حملے کی ذمے داری سونپیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ کارروائی میں العباس بریگیڈ کے نام سے معروف ایک ملیشیا بھی شریک ہو گی جس کے جنگجوؤں کی تعداد پانچ ہزار ہے اور ان کی نقل و حرکت کا تعین عراقی وزارت دفاع کرے گی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق مذکورہ ملیشیا کی شرکت مذہبی شخصیات کی خواہش پر ہو رہی ہے جو معرکے میں کسی اعتدال پسند فورس کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تلعفر پر دیگر ملیشیاؤں کے دھاوے کے حوالے سے الحشد الشعبی ملیشیا کی قیادت اور العبادی کے درمیان اختلاف کا فیصلہ کرنا بھی ہے۔

سکیورٹی اور عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ معرکے کا محور تلعفر اور دو علاقے المحلبیہ اور العیاضیہ ہوں گے اور یہ آپریشن دو ہفتوں کے اندر شروع ہو جائے گا۔

جہاں تک کرکوک کے جنوبی میں واقع علاقوں ، موصل اور صوبہ صلاح الدین کے شمالی حصے کا تعلق ہے تو وہاں شدت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز کام کریں گی۔