.

کہانی مریم کی جو پرائمری سے ہی "ڈاکٹر" بن گئی تھی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں قاہرہ کے مشرقی ریجن میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی 17 سالہ طالبہ مریم کو بچپن سے ہی "ڈاکٹر مریم" کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اس کے والد ایک عمارت کے "چوکی دار" ہیں۔

مریم نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو اپنی کامیابی کی کہانی کی ابتدا میں بتایا کہ سادہ طبیعت رکھنے والے اس کے والد 1992ء میں اپنے آبائی صوبے الفیوم سے روزگار کی تلاش کے سلسلے میں دارالحکومت قاہرہ آ گئے تھے۔ اس نے کہا کہ "اگرچہ میرے والد نے تعلیم حاصل نہیں کی مگر انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر بھرپور اصرار کیا۔ انہوں نے ہماری راحت کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے"۔

اپنی والدہ کے بارے میں مریم نے بتایا کہ "انہوں نے کبھی بھی گھریلو امور میں میری مدد طلب نہیں کی۔ وہ مجھے مستقبل میں ڈاکٹر دیکھنا چاہتی ہیں۔ میں ایک عمارت کی خالی دکان میں اپنے اسباق دُہراتی تھی۔ اس دوران میرے والدین اور بھائی رات بھر میرے ساتھ ہوتے تھے تا کہ میں تنہا نہ رہوں"۔

مریم کے مطابق انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ریجن کی سطح پر 99% نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کرنا درحقیقت ان کے والد کی کامیابی اور برتری ہے جن کے پیشے کا ذکر وہ بڑے فخر کے ساتھ کرتی ہے۔ مریم نے بتایا کہ وہ جس عمارت میں رہتی ہے اس کے مکینوں کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہتا تھا کہ یہ لڑکی پوزیشن حاصل کرے۔ پرائمری اور سیکنڈری سطح پر بھی مریم پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔ اسی واسطے تمام لوگ اس کو بچپن سے ہی ڈاکٹر مریم کے نام سے پکارتے تھے اور انہوں نے مریم کی ٹیوشن کے حوالے سے اس کے والد کو ہر ممکن امداد اور معاونت کی بھی پیش کش کی۔

مریم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آئندہ تعلیم کے واسطے عین شمس یونی ورسٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ لے گی۔

مریم کے والد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ان کی بیٹی نے ٹیوشن لینے سے انکار کر دیا تھا مگر اس کے اساتذہ نے اس کی اعلی کارکردگی اور ہمارے مالی حالات کے پیشِ نظر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں"۔
ادھر بعض مصری تاجروں نے مریم کی اس گراں قدر کامیابی کے سبب اُسے اعزاز و انعامات سے نوازنے کی پیش کش کی۔ تاہم مریم نے یہ کہہ کر ان تمام عطیات کو مسترد کر دیا کہ اس کے والد اپنی بیٹی کے لیے ہر چیز فراہم کرتے ہیں۔

مصری سرکاری روزنامے "الجمهوريۃ" نے مریم کو اعزاز سے نوازنے کا دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اسے یورپ کا دورہ کرنے والے انٹرمیڈیٹ طلبہ کی فہرست میں شامل کر لیا۔ مذکورہ روزنامہ ہر سال اس بیرونی دورے کا انتظام کرتا ہے۔