.

البغدادی کی ہلاکت سے متعلق روس گومگو کا شکار

’مستقبل میں داعش کی قیادت صدام حسین کی باقیات کے ہاتھ میں آ سکتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فوج نے گذشتہ ماہ جون میں ’داعش‘ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ایک فضائی حملے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب کریملن کے تازہ موقف میں البغدادی کی ہلاکت سے متعلق تضاد پایا جا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا البغدادی زندہ ہے یا جنگ میں اس کا قصہ تمام ہوچکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے سوموار کو صحافیوں کو بتایا کہ البغدادی کی ہلاکت سے متعلق ہمارے پاس ٹھوس معلومات نہیں بلکہ متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ تاہم روسی انٹیلی جنس ادارے ان اطلاعات کی چھان بین کر رہے ہیں۔ جب تک داعش کے سربراہ کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں درست معلومات نہیں مل جاتیں، اس وقت تک یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

گذشتہ ہفتے برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے روسی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ ابوبکر البغدادی کو ہلاک کردیا گیا ہے مگراس کی ہلاکت کا اعلان موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے بعد کیا جائے گا۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا تھا کہ شام سے ملنے والے مصدقہ ذرائع اور داعش کی قیادت کی طرف سے آنے والی اطلاعات میں البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم رصدگاہ نے البغدادی کے مقام ہلاکت اور وقت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی اور نہ یہ بتایا کہ البغدادی کی موت کیسے اور کن حالات میں ہوئی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس کے پاس البغدادی کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ البغدادی کے ٹھکانے یا اس کی ہلاکت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔واضح رہے کہ امریکا نے ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالرز مقرر کررکھی ہے۔

خود البغدادی کافی عرصے سے روپوش ہیں۔ اس کی رپوشی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی افواہوں کو تقویت دے رہی ہے۔ یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ وہ حملے کے خوف سے بار بار شام اور عراق میں اپنے ٹھکانے تبدیل کر رہے ہیں۔ چھیالیس سالہ البغدادی کو آخری بار جولائی 2014ء میں مغربی موصل کی جامع مسجد النوری میں خطاب کرتے اور داعش کی خلافت کا اعلان کرتے دیکھا گیا تھا۔

کرد عہدہ دار کا موقف

عراقی کردستان کی انسداد دہشت گردی فورس کے ایک سینیر عہدہ دار لاھور طالبانی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے 99 فی صد یقین ہے کہ البغدادی بہ قید حیات ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ البغدادی اس وقت جنوبی الرقہ میں ہوسکتے ہیں مگر اس کے قتل کے بارے میں افواہیں درست نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے کرد سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ بالیقین البغدادی زندہ ہے۔ ہمارے پاس جواطلاعات ہیں ان کی بنیاد پرہم 99 فی صد اس کے زندہ ہونے کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ وہ عراقی فوج سے خود کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو کھیل اس نے کھیلا ہے، اس کے بعد اس کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔

لاھور طالبانی نے کہا کہ اگر داعش کے موجودہ جنگجو کمانڈروں کو ہلاک کردیا جاتا ہے تو مستقبل میں داعش کی قیادت صدام حسین کے دور میں انٹیلی جنس کے شعبے سے وابستہ افراد کے ہاتھ میں آسکتی ہے۔ صدام حسین کی باقیات داعش کی تزویراتی حکمت عملی کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں طالبانی نے کہا کہ جنگ کے حوصلے پست ہونے کے باوجود داعش بار بار اپنی حکمت عملی بدل رہی ہے۔ داعش کو مکمل ختم کرنے کے لیے تین سے چار سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔