.

لبنانی فوج شامی سرحد کے نزدیک کارروائی جاری رکھے گی: سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ فوج شام کی سرحد کے نزدیک علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

انھوں نے منگل کے روز لبنانی پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرود عرسال کے علاقے میں اس فوجی کارروائی کی بڑی احتیاط سے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور حکومت نے فوج کو ’’آزادی‘‘ سے کارروائی کی اجازت دی ہے۔

شام اور لبنان کے درمیان پہاڑی علاقے میں واقع جرود عرسال کا علاقہ شامی مزاحمت کاروں کا ایک محفوظ گڑھ ہے اور یہاں داعش اور النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے بھی اپنی خفیہ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔

یہ بھی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور شامی فوج جنگ زدہ ملک کے سرحدی علاقے میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اسی ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ عرسال کے نزدیک سرحد کے دوسری جانب شامی جنگجوؤں کے ہاتھ سے وقت نکلا جارہا ہے اور انھیں جلد سے جلد شامی حکام سے کوئی معاہدہ کر لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عرسال میں جنگجو گروپوں کے خطرے کا خاتمہ کردیا جائے۔

تاہم وزیر اعظم سعد حریری نے واضح کیا ہے کہ لبنانی اور شامی فوجوں کے درمیان سرحدی علاقے میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

درایں اثناء لبنانی دارالحکومت بیروت میں شامی مہاجرین حکومت کے اس آپریشن کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے گذشتہ اتوار کو سکیورٹی اور امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے شہر میں مظاہروں پر پابندی عاید کردی تھی۔

لبنان میں شامی مہاجرین کی واپسی کے موضوع پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔لبنانی صدر میشال عون نے شامی مہاجرین کووطن واپس بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک شامی مہاجرین کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتا ہے۔انھوں نے لبنانیوں اور شامیوں کے درمیان منافرت کے پھیلانے پر بھی انتباہ کیا ہے۔

حزب اللہ اور اس کے اتحادی بے گھر شامیوں کی واپسی کے لیے اسد رجیم سے براہ راست بات چیت پر زور دے رہے ہیں جبکہ لبنان کی حکمراں مستقبل تحریک کے زیر قیادت مارچ14 بلاک شامی رجیم سے براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکا ہے اور اس کو یہ امید ہے کہ مہاجرین کی اقوام متحدہ کے ذریعے شام واپسی ممکن ہوسکے گی۔واضح رہے کہ اس وقت لبنان میں قریباً پندرہ لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور لبنان میں مقیم کل افراد میں تیس فی صد شامی ہیں۔