الحشد الشعبی ملیشیا کی کارستانیاں.. عراقی سکیورٹی فورسز بھی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں شیعہ ملیشیا "الحشد الشعبی" کی جانب سے خلاف ورزیوں کا ارتکاب عام شہریوں سے بڑھ کر اب فوج اور پولیس تک پہنچ گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق پارلیمنٹ میں امن اور دفاع کی کمیٹی کے رکن احمد المطلک نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ ملیشیا نے سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے ارکان کو گرفتار کر لیا۔ المطلک کے مطابق وزیراعظم حیدر العبادی کی کوشش ہے کہ قانون کے دائرے سے باہر ملیشیا کے رجحان پر قابو پایا جائے مگر وہ اکیلے ایسا نہیں کر سکتے۔

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کے بڑھتے رسوخ پر تنقید اور اسے غیر مسلح کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی ، علاقائی اور مقامی مواقف سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ میں امن اور دفاع کی کمیٹی نے باور کرایا ہے کہ ملیشیا نے عسکری ادارے سے بھی تجاوز کر لیا اور اس کے بعض عناصر نے مسلح افواج کے ارکان پر دھاوا بھی بولا۔ واضح رہے کہ حیدر العبادی عراقی افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔

دوسری جانب العبادی نے تنقیدوں کے جواب میں باور کرایا کہ ملیشیاؤں کو باقی رکھا جائے گا اور ان کے بجٹ کو بھی سپورٹ کیا جائے گا۔ عراقی وزیر اعظم کے مطابق حکومت ملیشیاؤں کو تحلیل نہیں کرے گی اور ان کو برسوں تک باقی رکھا جائے گا کیوں کہ عراق دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کے کردار کے حوالے سے تنازع بڑھتا جا رہا ہے جس نے سکیورٹی اداروں اور عراقی عوام کے خلاف کارستانیوں پر کمر باندھی ہوئی ہے۔

غالبا اس تجاوز کے پیچھے تہران کی جانب سے ایران نواز ملیشیاؤں کے حوالے سے جاری بیانات کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے کہا تھا کہ الحشد الشعبی ملیشیا عراقی عسکری ادارے کا طاقت ور ترین جُزو ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں