ایران اور حزب اللہ کو چھوڑنے کے لیے روس کا بشار الاسد پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی اخبار "واشنگٹن ٹائمز" کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ تنظیم اور شامی حکومت کے درمیان طویل تعلقات کو جنگ اور دونوں کی حکمت عملی کی وجہ سے واضح طور پر دراڑوں کا سامنا ہے۔ ادھر روس کی جانب سے بشار الاسد کے تہران اور حزب اللہ سے دست بردار ہونے کے واسطے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔

جدید ذرائع نے اخبار کو بتایا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان واضح دُوری پیدا ہو چکی ہے۔

امریکی اخبار نے باور کرایا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کو چھوڑنے کے لیے روس بشار الاسد پر دباؤ ڈال رہا ہے مگر یہ آسان نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے شامی حکومت خود دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ایک جانب روس کے قریب شامی افسران بھی ہیں جنہوں نے روس میں تربیت حاصل کی اور دوسری جانب وہ حلقے ہیں جو تہران کو حلیف بنانے کی تائید کرتے ہیں۔

روسی ایرانی تنازع کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تہران کی کوشش ہے کہ شام میں کنٹرول حاصل کر کے لبنان میں حزب اللہ ملیشیا تک رسائی کے واسطے عسکری گزر گاہ کو یقینی بنایا جائے جب کہ عراق کی طرز پر شام میں ایران کے کسی بھی غلبے کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں