ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کا نیا اسرائیلی قانون منظور

اسرائیل مخالف ویب سائیٹ کو بند کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کوپابند بنایا گیا ہے کہ وہ ’دہشت گردی‘ کا پرچار اور مجرمانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے میں سرگرم ویب سائیٹ کو بلاک کردیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں ناپسندیدہ ویب سائیٹ کو بلاک کرنے کا قانون داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’شاباک‘ اور پولیس کی سفارش سے منظور کیا گیا ہے۔ مسودہ قانون پر ایوان میں موجود 63 ارکان نے حمایت کی جب کہ 10 نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق اس قانون کے تحت ایسی تمام ویب سائیٹ جو سماجی جرائم کو فروغ دینے کاباعث ہوں بند کی جاسکیں گی۔ ان میں جوئے اور قمار بازی، منشیات کے فروغ، بچوں سے جنسی جرائم اور اسرائیلی تعریف میں دہشت گردی کی سرگرمیوں پر اکسانے والی ویب سائیٹ شامل ہیں۔ قانون کے تحت انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ممنوعہ ویب سائیٹ کے بارے میں عدالتی فیصلے کے بعد ان تک رسائی کے تمام راستے بند کرنے کی پابند ہوں گی۔

پولیس کی سفارت پر مرکزی عدالت کا کوئی جج انٹرنیٹ کی کسی بھی ویب سائیٹ کو مکمل یا جزوی طورپر بلاک کرنے کا حکم دینے کا مجاز ہوگا۔ ویب سائیٹ کی بندش کےاحکامات صادر کرنے سے قبل دیکھا جائے گا کہ آیا ویب پورٹل اسرائیلی قانون کے خلاف کام کررہا ہے یا نہیں۔ اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوجائے تو اس ویب سائیٹ کے خلاف قانون فوری حرکت میں آئے گا اور اسرائیل میں اس تک رسائی بند کردی جائے گی۔

قانون کے مطابق کسی بھی ویب سائیٹ کی بندش کا فیصلہ عدالت اپنی مرضی سے کرنے کی مجاز ہوگی۔ ویب سائیٹ کے مالک یا منتظمین کو عدالت میں طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ کسی ویب سائیٹ کی بندش سے قبل عوام الناس کو فیصلے کے بارے میں بتایا جائے گا۔

انسانی حقوق کے حلقوں اور صحافتی تنظیموں نے اسرائیلی کنیسٹ سے منظور کردہ قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے قوانین سے ذرائع ابلاغ اور آزادی اظہار رائے کا حق متاثر ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں