لبنان میں شامی نوجوان سے نسل پرستانہ سلوک

نوجوانوں کے ایک گروپ کا شامی شہری پر بہیمانہ تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انسانی حقوق کے کارکنان نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے میں شام کے ایک پناہ گزین نوجوان پر لبنانی غنڈوں کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد اور توہین آمیز سلوک ہوتے دکھایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج میں لبنانی نوجوانوں کا ایک گروپ ایک نوجوان کو پکڑ کر اس پر تشدد کے ساتھ ساتھ اسے ننگی گالیاں دے رہا ہے۔ نوجوان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ شام کا باشندہ ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ لبنان میں ایک شامی نوجوان سے نسل پرستانہ اور غیرانسانی سلوک کا یہ واقعہ پرانا نہیں بلکہ دو روز قبل پیش آیا تھا۔ یہ واقعہ لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف جاری انتقامی مہم کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے ساتھ بڑھتے منافرت آمیز واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

ایک ہفتہ پیشتر عرسال کے مقام پر قائم شامی پناہ گزین کیمپ میں لبنان فوج نے پناہ گزینوں کے ساتھ جس طرح کو توہین آمیز سلوک کیا تھا اس کے بعد لبنانی سیکیورٹی فورسز کا کردار سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ لبنانی فوج نے نہ صرف پناہ گزینوں پر وحشیانہ تشدد کیا اور بڑی تعداد میں شامی شہریوں کو حراست میں لیا تھا بلکہ فوج کی تحویل میں موجود ایک شامی شہری کی موت بھی واقع ہوگئی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شامی شہری کی موت وحشیانہ تشدد کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

گذشتہ روز لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کی سرحد سے متصل شمالی مشرقی علاقے جرود عرسال میں فوج ایک بڑا آپریشن شروع کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیکیورٹی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوج کو مکمل اختیارات فراہم کیے ہیں۔

لبنانی پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سعد الحریری کا کہنا تھا کہ جرود عرسال کے مقام پر آپریشن کے لیے شامی فوج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

حال ہی میں لبنانی صدر العماد مشیل عون نے ایک بیان میں شامی پناہ گزینوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ملک واپس جائیں کیونکہ بیروت پناہ گزینوں کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے لبنانی اور شامی اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت پر اکسانے کے مظاہرے کے بارے میں بھی متنبہ کیا اور دونوں قوموں کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں