لیبیا: شادی پر حکومتی ٹیکس عائد، عوامی حلقوں میں غصّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے مشرق میں عبوری حکومت کی جانب سے شادی ٹیکس کی مد میں جاری فیصلے نے لیبیا کے سماجی حلقوں میں تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ منگل کے روز جاری حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق کسی بھی لیبیائی باشندے کو لیبیائی خاتون سے شادی پر ٹیکس کے طور پر 50 دینار ادا کرنے ہوں گے۔ لیبیائی شہری کو غیر ملکی خاتون سے شادی کرنے پر 5000 دینار اور کسی بھی غیر ملکی شہری کو لیبیائی خاتون سے شادی پر 3000 دینار کی ادائیگی کرنا ہو گی۔

عبوری حکومت نے اپنے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے اس اقدام کو شادی فنڈ کی سپورٹ قرار دیا۔ تاہم لیبیا کے عوام کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے نفاذ سے شہریوں پر بوجھ پڑنے کے علاوہ شادی کے اخراجات میں بے جا اضافہ ہو جائے گا۔ سابق رہ نما معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد ملک کے نوجوانوں کی اکثریت کو سخت معاشی حالات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ 2012 میں لیبیا میں سماجی امور کی وزارت کے زیر نگرانی شادی کو آسان بنانے کے لیے میرج فنڈ بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ملک میں غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانا ہے۔ فنڈ کے اہم ترین ذمے داری شادی کے خواہش مند افراد کو رہائش فراہم کرنے میں مدد دینا اور شادی کے اخراجات کے لیے معقول رقم فراہم کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں