.

ایران کی 86 ہزار شامی جنگجوؤں کو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران شام میں بشار الاسد کے وفادار ہزاروں جنگجوؤں کو ماہانہ تنخواہیں ادا کررہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں صدر اسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک میں اب تک ایران کی طرف سے ماہانہ 86 ہزار نیم فوجی اہلکاروں اور دیگر جنگجوؤں کو ماہانہ بنیادوں پر تنخواہیں ادا کی جاتی رہی ہیں۔

مڈل ایسٹ انسٹیٹٰوٹ مرکز کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران ان اجرتی قاتلوں کے خاندانوں کو بھی ماہانہ بنیادوں پر امداد فراہم کررہا ہے جنہیں اپوزیشن کی طرف سے اجرتی قاتل قرار دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شام میں جاری چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران بشارالاسد کی حکومت مالی اور اقتصادی طور پر سنگین بحران سے دوچار ہوئی ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے خالی کردہ علاقوں کے انتظامی کنٹرول کے لیے بشار الاسد کے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، ایران دمشق کی اس مشکل میں مدد کررہا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشارالاسد حکومت کی قومی آمدنی 94 فی صد کم ہوچکی ہے۔ سنہ 2011ء اور 2015ء کے درمیانی عرصے میں دمشق کے مالی خسارے کا حجم دو کھرب 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا تھا۔

سنگین بحرانی صورت حال میں بھی دمشق ایران اور روس کی مدد سے سرکاری ملازمین اور فوجیوں کو تنخواہیں تواتر کے ساتھ ادا کررہا ہے۔

روس کی شام کے لیے امداد مفت نہیں بلکہ اس رقم کے عوض روس شام سے تیل خرید رہا ہے۔ روسی کمپنیوں کے شام کی آئل مارکیٹ میں 25 فی صد شیئرز ہیں۔ اسی طرح ایران بھی شام کے ساتھ مل کر گیس کے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

تاہم یہ امر باعث حیرت ہے کہ ایران گذشتہ چھ سال سے شام میں بشارالاسد کے چھیاسی ہزار وفاداروں کو مالی امداد فراہم کررہا ہے حالانکہ تہران خود بدترین مالی بحران کا شکار ہے۔ ایران میں غربت اور بے روزگاری عام ہے اور ملازمین کی تنخواہیں بہت کم ہیں۔