.

قبلہ اول فلسطینی نمازیوں اور صہیونی فوج میں میدان جنگ بن گیا

نہتے فلسطینیوں پر قابض فوج کا بہیمانہ تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بندش کے خلاف ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے قبلہ اول کے باہر جمع ہو کر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف شدید احتجاج جاری رکھا ہے۔

العربیہ کے مطابق جمعرات کو مسجد اقصیٰ کے اطراف میں ہزاروں فلسطینیوں نے صہیونی فوج کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا تو قابض فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں بیسیوں افراد زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فورسز نے فلسطینی شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کی، صوتی بموں سے حملے اور دھاتی گولیوں کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی۔ دوسری طرف فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کے باوجود مسجد اقصیٰ کے باہر الیکٹرانک گیٹس کی تنصیب کے خلاف دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے گذشتہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں پیش آنے والے ایک خونی واقعے کے بعد قبلہ اول کو نمازیوں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے میٹل ڈیٹکٹر اور کیمرے نصب کیے ہیں جن کے خلاف فلسطینی شہری سراپا احتجاج ہیں۔

فلسطینیوں کی طرف سے نام نہاد سیکیورٹی اقدامات مسترد کیے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے نمازیوں کا قبلہ اول میں داخلہ بند کردیا تھا۔ یہ بندش آج بھی جاری ہے مگر آج جمعہ کے روز فلسطین بھر میں اسرائیلی پابندیوں کے خلاف ’یوم الغضب‘ منایا جا رہا ہے۔