.

ایران : اجتماعی قتل عام میں شریک وزیر کو علاحدہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم 11 تنظیموں نے صدر حسن روحانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ وزیر انصاف مصطفی پور محمدی کو اُس نئے وزارتی قلم دان کے لیے نامزد نہ کریں جس کا اعلان چند روز بعد مقرر ہے۔ مذکورہ وزیر پر 1988 میں لاکھوں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائی میں شریک ہونے کا الزام ہے۔

صدر روحانی کے نام بھیجے گئے ایک کھلے خط میں مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مصطفی پور محمدی سے منسوب الزامات کے حوالے سے "صاف اور شفاف تحقیق" کی جائے۔ بالخصوص جب کہ گزشتہ برس معروف ایرانی مذہبی شخصیت حسین علی منتظری کے بیٹے کی جانب سے جاری صوتی ریکارڈنگ سے مصطفی پور کے کردار کا انکشاف ہو چکا ہے۔

اس سے قبل "نامہ نگار بلا سرحدیں" اور "The Center for Human Rights in Iran" نامی دو تنظیموں نے 2013 میں صدر حسن روحانی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد وزارت انصاف کے قلم دان کے لیے مصطفی پور محمدی کی نامزدگی واپس لے لیں۔

انسانی حقوق کی ایرانی اور عالمی تنظیموں نے اپنے خط میں روحانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر انصاف کے منصب پر ایسی شخصیت کا تقرر کریں جو انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی پاسداری ثابت کر چکی ہو۔

روحانی کے نام خط پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کئی مقامی اور عالمی سرگرم کارکنان نے دستخط کیے ہیں۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے 1988 کے موسم گرما میں سیاسی قیدیوں کے خلاف اجتماعی پھانسیوں اور موت کے گھاٹ اتارے جانے کی کارروائیوں کا دفاع کیا تھا۔ یہ امر مصطفی پور محمدی کی سبک دوشی کو دشوار بنا دے گا کیوں کہ ایرانی حکومتوں میں دفاع ، انصاف اور داخلہ جیسی مقتدر ترین وزارتیں خامنہ ای اپنے پاس برقرار رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس شیعہ مذہبی رہ نما حسین علی منتظری کے بیٹے احمد منتظری نے ایک صوتی ریکارڈنگ جاری کی تھی جس کے ایک حصے میں احمد کے والد کی 1988 میں اجتماعی قتل عام کی ذمے دار ڈیتھ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ گفتگو شامل تھی۔ ڈیتھ کمیٹی میں روحانی حکومت کے موجودہ وزیر انصاف مصطفی پور محمدی بھی شامل تھے۔