.

سیناء میں مصری فورسز کی کارروائی میں 30 انتہا پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سکیورٹی فورسز نے جزیرہ نما سیناء میں گذشتہ کئی روز سے جاری کارروائی میں تیس انتہا پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

مصری فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی میں فوجی دستے ، فضائیہ اور پولیس حصہ لے رہی ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کس گروپ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔البتہ اس نے انھیں خطرناک قرار دیا ہےاور کای ہے کہ پانچ مشتبہ انتہا پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مصری فورسز نے صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش اور دو بڑے شہروں رفح اور شیخ زوید کا سخت محاصرہ کررکھا ہے تاکہ انتہا پسندوں کی آزادانہ نقل وحرکت کو روکا جاسکے۔

واضح رہے جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی صوبے شمالی سیناء میں مختلف جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ آزما ہیں۔ان میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء یا انصار بیت المقدس ہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔