.

الاقصیٰ کے باہر فلسطینیوں اوراسرائیلی فوج میں جھڑپیں جاری

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں مزید دو فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے باہر بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے جمع ہو کراحتجاج کیا۔ اس موقع پراسرائیلی فوج نے پرامن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔

العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے باہر بڑی تعداد میں فلسطینی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز فلسطینی نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے قابض صہیونی فوج نے مظاہرین پرلاٹھی چارج کیا اور صوتی بم بھی برسائے جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے ہلال احمر فلسطین کے امدادی کارکنوں کو زخمیوں تک رسائی سے بھی روک دیا تھا۔

ہفتے کے روز مقبوضہ غرب اردن کے علاقے میں اسرائیلی فوج کے پرتشدد حملوں میں دو فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔

قبل ازیں جمعہ کو نفیر عام کے موقع پر القدس میں راس العامود کے مقام پر اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔

فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ العیزریہ کے مقام پرایک 17 سالہ فلسطینی لڑکے کے سینے میں گولی لگی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ادھر اب دیس کے مقام پر ایک 18 سالہ فلسطینی نوجوان پٹرول بم پھٹنے سے جاں بحق ہوگیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے جس نے قبلہ اول اور حرم قدسی کو مسلسل اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان مسجد اقصیٰ میں کشیدگی گذشتہ 14 جولائی بہ روز جمعہ اس وقت پیدا ہوئی تھی جب مسجد میں ایک خونی کارروائی میں دو صہیونی ہلاک اور تین فلسطینی مزاحمت کار مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔