.

حیران کُن خبر: ايران میں منشیات سرکاری طور پر تقسیم کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رکن پارلیمنٹ حسن نوزروزی کا جو عدلیہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان بھی ہیں کہنا ہے کہ ملک میں منشیات کے عادی افراد کو حکومتی واؤچرز کے ذریعے منشیات تقسیم کرنے سے متعلق قانونی بِل کا منصوبہ موجود ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی اِلنا نے نوروزی کے حوالے سے بتایا ہے کہ منشیات کے عادی افراد میں واؤچرز کی تقسیم اسی طرح ہو گی جیسا کہ شاہ ایران کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ اُس وقت تمام مذہبی مراجع حکومت کے ذریعے منشیات کی تقسیم پر آمادہ تھے۔ نوروزی کے مطابق اس تجویز کا مقصد منشیات کے عادی افراد اور اس کے اسمگلروں کے درمیان تعلق ختم کرنا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا کہ منصوبے کے تحت حکومت منشیات کے عادی افراد کو "ہلکی نوعیت کی منشیات" فراہم کرے گی تا کہ وہ بتدریج اس لعنت سے چھٹکارہ پا سکیں۔ اس طرح یہ لوگ منشیات کے اسمگلروں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے سرکاری طور پر حکومت سے منشیات حاصل کریں گے۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ میں عدلیہ سے متعلق کمیٹی نے ایک قانونی بل کا مجوزہ منصوبہ پیش کیا تھا جس کے مطابق 100 کلو گرام سے کم مقدار میں افیون کا مادہ رکھنے اور تقسیم کرنے والے کو اور 2 کلو گرام تک منشیات تیار کرنے والا مادہ رکھنے اور تقسیم کرنے کے لیے موت کی سزا منسوخ کر دی جائے گی۔

مذکورہ قانون کے منظور ہونے کی صورت میں منشیات کے عادی افراد کو 5 کلو گرام سے کم منشیات کی مقدار رکھنے کی اجازت ہو گی۔
نوروزی نے بتایا کہ ان تمام ترامیم کا اضافہ انسداد منشیات سے متعلق سابقہ قانون میں کیا گیا ہے۔

منشیات خریدنے کے واؤچرز یا کوپن تقسیم کرنے کا منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں منشیات کے رجحان کا مقابلہ کرنے میں موت کی سزا بے فائدہ ثابت ہو چکی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ برس کے دوران ایران میں منشیات سے متعلق جرائم کے 570 ملزمان کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔