.

ولی فقیہ کا مخالف "مسلمان" نہیں: خامنہ ای کے نائب کی درفطنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے نائب اور مشہد شہر میں نماز جمعہ کے خطیب احمد علم الہدی اپنے متنازعیہ سخت گیر بیانات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ تہران کے بعد ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں موسیقی کی محفلوں کو ممنوع قرار دینے کے پیچھے علم الہدی کا ہی ہاتھ تھا اور انہوں نے ہی ملک کے اندر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے تمام عناصر پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔

اس حوالے سے علم الہدی کا آخری بیان شاید اب تک کا متشدد ترین موقف ہے جس میں انہوں نے ولی فقیہ علی خامنہ ای کی ہدایات کی مخالفت کرنے والوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ لوگ "مسلمان نہیں ہیں"۔ سپریم رہ نما کے نائب نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے "حلال" اور "حرام" کے الفاظ استعمال کیے۔ علم الہدی کا کہنا ہے کہ "حلال" سیاسی گروپ وہ ہے جو ولیِ فقیہ کا پیروکار ہے جب کہ اس کے سوا سب "حرام" ہیں۔ فارس اور تسنیم نیوز ایجنسیوں کے مطابق انہوں نے کہا کہ "سیاست کی مثال خرید و فروخت کی مانند ہے جس میں حرام اور حلال دونوں ہوتے ہیں لہذا ولایتِ فقیہ سے جُڑا ہوا گروہ تو حلال ہے اور اس کا مخالف حرام ہے۔

احمد علم الہدی کے بیان کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر سرگرم ایرانی حلقوں نے اس بیان کو "تکفیری" اور "سپریم رہ نما کے مخالفین کے قتل پر اکسانے والا" قرار دیا ہے۔

سپریم رہ نما کے نائب کے مطابق فکری گروہوں میں سیاسی انحراف انسان کو اسلام کے محاذ سے باہر کر دیتا ہے لہذا سیاسی منحرف مسلمان نہیں ہے۔

علم الہدی نے نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے مغرب کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی کوششوں پر نکتہ چینی کی۔

اس سے قبل علم الہدی سبز تحریک میں سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے مخالفین کو "بیل" اور اللہ اور رسول کا دشمن" قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مخالفین کے لیے "محارب" کی اصطلاح بھی استعمال کی۔ یہ وہ اصطلاح ہے جس کے قتل اور موت کے گھاٹ اتارنے کی ایرانی آئین میں اجازت دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ احمد علم الہدی ایران میں آخری صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والے امیدوار ابراہیم رئیسی کے سُسر ہیں جو 1988 میں سیاسی قیدیوں کے اجتماعی قتل عام پر عمل درامد کرنے والی "ڈیتھ کمیٹی" کے رکن تھے۔