.

’توقع ہےامیر قطر کا خطاب رابطوں کی بحالی کی دعوت ثابت ہوگا‘

خلیجی بحران کے حل کے لیے مذاکرت ناگزیر ہیں:قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ گذشتہ روز سامنے آنے والا امیر قطر کا موقف خلیجی ملکوں کے درمیان رابطوں کی بحالی کی دعوت ثابت ہوگا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ‘ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انور قرقاش نے کہا کہ امیر قطر کے خطاب میں بعض مثبت پہلو موجود ہیں۔ توقع ہےان کے اس خطاب کے بعد باہمی رابطوں کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔ اماراتی وزیر کا کہنا تھا کہ امیر قطر کا خطاب اپنے سابقہ موقف میں نظر ثانی اور رابطوں کی بحالی کی دعوت ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کی جانب سے اپنے سابقہ موقف پر اصرار بحران کو مزید گھمبیر کررہا ہے۔ خلیجی بحران کے حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں مگر مذاکرات کی کامیابی کے لیے موقف میں نظرثانی ستون کی حیثت رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز امیر قطر نے اپنے خطاب میں تسلیم کیا تھا کہ قطر اور دوسرے خلیجی ملکوں کے درمیان دوحہ کی خارجہ پالیسی پر اختلافات رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے الزم عاید کیا تھا کہ قطر کے خلاف پروپیگنڈہ مہم پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد قطر پر دوسرے ملکوں کی پالیسی مسلط کرنا ہے۔ امیر قطر نے کہا تھا کہ خلیجی ملکوں سے بحران کے باوجود قطر میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔