.

قطر کا بحران.. امریکی انتظامیہ کا یکساں موقف ہونے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے بحران کے حوالے سے یورپی ممالک کے حرکت میں آںے سے قبل امریکا کا متحرک ہونا دیکھنے میں آیا تاہم بحران کے حل کے کوئی آثار سامنے نہیں آئے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے قطر کا دورہ کیا اور بحران کے دوران ان کے بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف نظر آئے۔

قطر کے بحران کے حوالے سے امریکی موقف سب سے سے پہلے صدر ٹرمپ کی زبانی سامنے آیا جنہوں نے اس بحران کو دہشت گردی کی فنڈنگ اور انتہا پسندی کی ترویج کے اختتام کا آغاز قرار دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں نے نے وزیر خارجہ ٹیلرسن اور امریکی جنرلوں اور عسکری اہل کاروں کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قطر اس فنڈنگ کو روک دے"۔

تاہم امریکی انتظامیہ کے دیگر ارکان نے ایسا اظہار کیا گویا کہ وہ کرداروں کو تقسیم کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع جیمس میٹس قطر کے ساتھ تعاون اور تزویراتی شراکت داری کو گہرا بنانے پر زور دیتے ہیں جب کہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اپیل کر رہے ہیں کہ بحران میں کسی بھی قسم کی جارحیت سے اجتناب برتا جائے۔

البتہ ان اختلافات کے نظر آنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ باور کرا رہی ہے کہ اس کے مواقف یکساں ہیں۔

امریکی انتظامیہ اب یہ محسوس کر رہی ہے کہ اس کی کوششیں بار آور ثابت ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے خلیج کا دورہ کیا اور قطر کے ساتھ ایک مفاہمی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد قطر کے امیر نے انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم سے متعلق فرمان جاری کیا۔

ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ " ہم اُن کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے مطمئن ہیں اور اُنہوں نے بھی چاروں فریقوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے اور مطالبات کو زیر بحث لانے کی نیت ظاہر کی ہے"۔

امریکی انتظامیہ کے نزدیک اب قطر نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے ساتھ بات چیت کو اور ان ممالک کی خود مختاری اور سیادت کو قبول کر لیا ہے۔ امریکی وزارتوں کے ذمے داران بھی امریکا قطر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درامد کی نگرانی کریں گے۔

امریکی یہ امید رکھتے ہیں کہ انہوں نے دونوں مقاصد حاصل کر لیے ہیں جن میں پہلا دہشت گردی کی فنڈنگ روکنا اور دوسرا خلیج تعاون کونسل کے نظام کو برقرار رکھنا ہے۔