.

مسجد اقصی کے باہر اسکینرز قطعاً نہیں ہٹائیں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مسجد اقصی کے باہر نصب کیے جانے والے الیکٹرانک اسکینگ گیٹس ہر گز نہیں ہٹائے گی البتہ ہو سکتا ہے کہ ان گیٹوں کا استعمال کم کر دیا جائے۔

اسرائیلی وزیر ترقیات نے باور کرایا ہے کہ مذکورہ گیٹ باقی رہیں گے۔ وزیر کے مطابق فلسطینیوں کے پاس ان گیٹوں سے گزرے بغیر مسجد میں داخل ہونے کا آپشن موجود ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جن کو دائیں بازو کے شدت پسندوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے، انہوں نے بیت المقدس میں سکیورٹی کی صورت حال کو زیر بحث لانے کے لیے اپنی سکیورٹی کچن کابینہ کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

ادھر اوقاف کے فلسطینی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ قابض اسرائیلی پولیس کی جانب سے بابِ اسباط کے سامنے فولادی پُل پر کیمروں کی تنصیب کو مسترد کرتی ہے۔ یہ تنصیب معدنی دھاتوں کا پتا چلانے والے اُن اقدامات کا ہی حصہ ہے جن پر فلسطینیوں کو سخت اعتراض ہے۔

دوسری جانب ’’فتح‘‘ تحریک کی مرکزی کمیٹی کے رکن عزام الاحمد کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی میں داخلہ خالصتا اسلامی معاملہ ہے جس کو اسلامی اوقاف کا محکمہ اور مسجد اقصی کے متولی انجام دیتے ہیں اور اسرائیل کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کیمروں کا معاملہ ایک سادہ سا اقدام شمار کیا جا رہا ہے مگر یہ ہماری جانب سے یکسر مسترد شدہ ہے"۔

یاد رہے کہ آج پیر کے روز عالمی سلامتی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں بیت المقدس میں حالات پرسکون بنانے کے طریقوں کو زیر بحث لایا جائے گا۔

ادھر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اتوار کے روز باور کرایا کہ ان کی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈی نیشن روک دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "اسرائیل پر لازم ہے کہ یہ جان لیں کہ حتمی طور پر خسارے میں وہ رہیں گے کیوں کہ ہم ان کے اور اپنے دونوں کے امن کے تحفظ کے حوالے سے بڑی ذمے داری انجام دے رہے ہیں"۔

اس سے قبل جمعے کی شام محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ تمام رابطوں کو "معطل" کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان مسجد اقصی کے داخلی راستوں پر اسکینرز لگائے جانے کی وجہ سے پھوٹنے والی خون ریز جھڑپوں کے بعد سامنے آیا۔