.

موصل میں داعش سے بازیاب چیچن بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل میں ’داعش‘ کے خلاف جاری آپریشن کے دوران عراقی فوج کو وہاں سے چیچنیا کے کچھ بچے بھی ملے ہیں جو داعشی جنگجوؤں کی جانب سے وہاں لائے گئے تھے، تاہم مجہول النسب ہونے کی بناء پر ان بچوں کی مزید شناخت کا پتا نہیں چل سکا اور ان کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فی الحال ان بچوں کو عراق کی وزارت برائے سماجی بہبود کے حوالے کیا گیا ہے۔

وزارت سماجی بہبود کی ڈائریکٹر جنرل برائے خصوصی ضروریات عبیر الجلبی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ادارے کو چیچنیا کے گم نام نسب کے بچوں کا ایک گروپ ملا ہے۔ یہ بچے موصل میں داعش کے زیر تسلط علاقوں سے بازیاب کرائے گئے ہیں۔ ان بچوں کا طبی معائنہ کیا گیا۔ ان کی صحت کافی مخدوش دکھائی دیتی ہے۔ تکنیکی اور انتظامی اقدامات کی تکمیل کے بعد ان بچوں کو بچوں کی کفالت کرنے والے ایک سرکاری ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں بچوں کی سرکاری ادارے کو حوالگی کا فیصلہ موصل کے لیے قائم کردہ اسپیشل کرائسز سیل اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ’یونیسیف‘ اور ریڈ کراس کے مشورے اور تعاون سے کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عراقی خاتون عہدیدار نے بتایا کہ موصل سے ملنے والے ان چیچن بچوں کے پاس خاندانی ثبوت کی کوئی دستاویزات نہیں اور وہ مجہول النسب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت داعش کے قبضے سے بازیاب ہونے والے ان چیچن بچوں کے خاندانی ثبوت کے لیے ذریعے ابلاغ کی مدد سے ایک سال کے لیے مہم چلائے گی تاہم ایک سال کے بعد بھی اگر ان بچوں کے حسب ونسب کا پتا نہ چلا تو اس کے بعد اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔